سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 500
30 انصار اللہ کو تحریک جدید کے حوالہ سے ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں حضور نے خطبہ جمعہ 23 اکتوبر 1970ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔ان تین دنوں میں انصار اللہ کا اجتماع ہے انصار اللہ کے دوست باہر سے آئے ہوئے ہیں یہ بھی کافی بڑا پروگرام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے نباہنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں جو یکم نبوت ( یکم نومبر ) سے شروع ہوگا یہ نیا سال تحریک جدید کے دفتر اول کا سینتیسواں سال ہے اور دفتر دوم کا ستائیسواں سال ہے اور دفتر سوم کا چھٹا سال ہے۔دو سال قبل میں نے جماعت کو یہ توجہ دلائی تھی کہ تحریک جدید کے کام کی طرف پہلے سے زیادہ متوجہ ہوں اور زیادہ قربانیاں کریں اور زیادہ ایثار دکھا ئیں اور اپنی نئی نسل کو زیادہ بیدار کریں اور انہیں قربانیوں کے لئے تیار کریں دفتر سوم کی ذمہ داری تو انصار اللہ پر ڈالی گئی تھی اس میں بھی ابھی کافی سنتی ہے۔اس دو سال میں وہ ٹارگٹ جو میں نے تحریک جدید کے سامنے رکھا تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ تحریک کے تعلق میں جماعت کے سامنے رکھا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان کے احمدیوں کی یہ مالی قربانی سات لاکھ نوے ہزار روپے ہونی چاہئے مگر جماعت اس ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکی کچھ جائز وجو ہات بھی ہیں۔پہلے فضل عمرفاؤنڈیشن کے چندوں کا زائد بار تھا اب بار تو نہیں کہنا چاہئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کے جو دروازے کھولے تھے ہم اپنی غفلتوں کی وجہ سے یا اپنی بشری کمزوری کے نتیجہ میں اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکے جتنا کہ ہمیں اٹھانا چاہئے تھا یا جتنا ہمارا پیارا رب ہم سے توقع رکھتا تھا کہ ہم اٹھائیں گے۔باوجود فضل عمر فاؤنڈیشن کی زائد قربانیوں کے جو جماعت دے رہی تھی پھر بھی پہلے کی نسبت تحریک نے ترقی کی ہے پینتیسویں سال میں چھ لاکھ میں ہزار تک پہنچے اور چھتیسویں سال میں چھ لاکھ پینسٹھ ہزار تک پہنچے اور سات لاکھ نوے ہزار تک جو میں نے ٹارگٹ مقرر کیا تھا اس میں ابھی ایک لاکھ پچیس ہزار کی کمی ہے کیونکہ اس عرصہ میں نصرت جہاں ریز روفنڈ“ کا بھی مطالبہ ہوا ہے یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوا ہے۔مغربی افریقہ کی ضرورت کے مطابق یہ مطالبہ ہوا ہے۔اس لئے میں نے سات لاکھ نوے ہزار کا جو ٹارگٹ رکھا تھا کہ یہاں تک جماعت کو پہنچنا چاہئے اس میں کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس سال انشاء اللہ وہاں تک پہنچ جائے گی۔بعض جماعتوں نے اس طرف توجہ دی ہے بعض نے بڑی غفلت برتی ہے اگر ہم جماعتوں کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کی جماعت اپنے ٹارگٹ کو پہنچ گئی ہے جب میں نے یہ اعلان کیا تھا یعنی سات لاکھ نوے ہزار کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا تو دفتر تحریک نے ہر بڑی جماعت اور ضلع کا نسبتی طور پر ٹارگٹ