سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 499

29 $ 1970 انصار اللہ کو ہر قدم پر دعا کرنے کی تلقین حضرت خلیق اسح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 6 مارچ 1970ء کوفر مایا۔"ہمارا کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہے خواہ وہ تہجد کی نماز ہو خواہ وہ گھٹیالیاں کا انٹر میڈیٹ کالج ہو یا کہیں پرائمری سکول ہو خواہ وہ بچوں کی قاعدہ پڑھانے والی کلاس ہو یا خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا تربیتی کورس ہو یا یہاں جو قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے وہ ہو چاہے دھوبی کو کپڑے دینے کا کام ہو یا درزی سے کپڑے سلوانے کا کام ہو سب کام ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرنے ہیں اگر ہم درزی کو کپڑے سینے کے لئے اس لئے دیتے ہیں کہ اپنے لباس کی نمائش مطلوب ہے تو خدا تعالیٰ کا غضب تو ہمیں مل سکتا ہے اس کی رضا نہیں مل سکتی لیکن اگر ہم درزی سے کپڑے اس نیت سے سلواتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اے مومنو! تمہارے لئے ان چیزوں کو پیدا کیا۔اسراف سے بچتے ہوئے افراط و تفریط ہر دو پہلوؤں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ان چیزوں کو استعمال کرو میں تمہیں جہاں باطنی حسن دینا چاہتا ہوں وہاں میں تمہیں ظاہری حسن بھی دینا چاہتا ہوں اپنے لباس کو اس نیت سے بنواؤ اور پہنو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عطا ہے ہم اس کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ لباس بنواتے ہیں۔ایک شخص دھوبی کو کپڑے عادتا دیتا ہے ایک دوسرا شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرے رب کو نجاست اور گندگی اور میل کچیل پسند نہیں ہے میں اپنے کپڑوں کو صاف رکھوں گا۔اس نیت کے ساتھ دھوبی کو کپڑے دیتا ہے چنانچہ وہ صاف کپڑے بھی پہن لیتا ہے اور فرشتوں کی دعا ئیں بھی اسے حاصل ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی اسے مل جاتی ہے۔غرض ایک احمدی کا ہر کام اسلام کے معیار پر پورا اترنا چاہئے ورنہ اس کام کے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس کے نتیجہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں مل سکتی۔پس جوتعلیمی ادارے ربوہ سے باہر ہیں ان کی بھی بڑی سختی سے نگرانی ہونی چاہئے۔تعلیم کے لحاظ سے بھی اور تربیت کے لحاظ سے بھی ہمارے تعلیمی ادارے اور کسی اور کے تعلیمی ادارے میں نمایاں فرق ہونا چاہئے ورنہ ہم اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوں گے۔" (خطبات ناصر جلد سوم صفحہ 52)