سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 501
31 مقرر کر دیا یعنی چونتیسویں پینتسویں سال کا چندہ تھا اس کے ٹوٹل اور سات لاکھ نوے ہزار کی جو نسبت بنتی تھی اس نسبت سے تحریک نے کہا کہ ہر جماعت اور ضلع اتنا زیادہ دے دے تو جو ٹارگٹ ہے وہ پورا ہو جاتا ہے۔اس نسبت سے یعنی سات لاکھ نوے ہزار کے ٹارگٹ کے لحاظ سے کراچی کو جتنا دینا چاہئے تھا اتنا اس نے دے دیا ہے۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اسی طرح اسلام آباد ہے پھر ضلع ہزارہ ہے پھر جہلم شہر ہے اسی طرح بنوں شہر ضلع ہے پھر ساہیوال شہر ہے، پھر ڈیرہ غازیخاں شہر ضلع ہے پھر بہاولپور شہر ضلع ہے اور اسی طرح ڈھا کہ شہر، ان سب نے اپنے تحریک جدید کے چندے اس نسبت سے بڑھا دیئے کہ جس نسبت سے سات لاکھ نوے ہزار کی رقم پوری کرنے کے لئے ان پر ذمہ داری آتی تھی اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔لیکن بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں جو کچھ ست ہیں اور بعض ایسی جماعتیں ہیں جن سے ہم توقع رکھتے تھے کہ وہ اس طرف زیادہ توجہ دیں گی مگر انہوں نے توجہ نہیں دی مثلار بوہ ہے۔ربوہ اپنے اس ٹارگٹ کو نہیں پہنچا اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے ربوہ کو تو باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ بنا چاہئے مگر یہ نمونہ نہیں بنے نہ صرف یہ کہ ربوہ کے دوست باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ نہیں بنے بلکہ انہوں نے کراچی اور دوسرے شہر واضلاع کے نمونے سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا ٹارگٹ کے لحاظ سے ربوہ کو نوے ہزار کی رقم دینی چاہئے تھی جس میں سے صرف ستاون ہزار کے وعدے ہیں۔اسی طرح لاہور شہر کا حال ہے یہ امیر احمدیوں کا شہر ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی کامل روح موجود نہیں یا اس روح کو بیدار نہیں کیا گیا دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے روح تو ہے لیکن نظام جماعت لاہور نے اس روح کو کما حقہ بیدار نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا بھی چورانوے ہزار ٹارگٹ بنتا تھا لیکن صرف بہتر ہزار کے وعدے ہیں پھر سیالکوٹ شہر ہے۔انہیں پندرہ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا تھا ان کے دس ہزار کے وعدے ہیں (ویسے میں نے سینکڑے چھوڑ دیئے ہیں ہزاروں میں بات کر رہا ہوں ) اسی طرح راولپنڈی شہر ہے جس کے پہلو میں اسلام آبادشہر ہے جس نے اپنا ٹارگٹ پورا کر دیا ہے لیکن راولپنڈی شہر کا چون ہزار روپے ٹارگٹ بنتا تھا اور انہوں نے وعدے صرف تمہیں ہزار کے کئے ہیں لیکن قریباً پچپن فیصد ہیں یہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں پھر ملتان شہر ہے اس کا ٹارگٹ سترہ ہزار تھا اور انہوں نے وعدے کیے ہیں گیارہ ہزار کے۔دفتر نے یہ رپورٹ دی ہے کہ جو شہر یعنی ضلع کا صدر مقام پیچھے ہے وہاں کی ضلعی جماعتیں بھی پیچھے ہیں۔یہ تو ایک طبعی بات ہے جب کسی جماعت نے توجہ نہیں کی اور سنتی دکھائی نظامِ جماعت نے اپنی ذمہ داری کو نہیں نباہا تو اگر ہر پیچھے ہے تو ضلع یقینا پیچھے ہوگا بلکہ غالباً کچھ زیادہ پیچھے ہوگا بہر حال ہمارے سامنے یہ بڑی افسوسناک تصویر آتی ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیں اپنی ذمہ داری نباہنے کی توفیق عطا کرے۔