سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 495

25 انصار اللہ کی تنظیم میں تربیت اور حصول قرب الہی پر زور دیا گیا ہے اور خدام الاحمدیہ کے پروگرام میں خدمت بنی نوع انسان اور حصول قرب الہی پر زیادہ زور ہے۔اگر آپ سوچیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اگر یہ خدمت کی روح غائب ہو جائے تو انسانی اقدار قائم نہیں ہو سکتیں اور اگر انسانی اقدار قائم نہ ہوں تو روحانی ترقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ روحانی ترقیات کے لئے جتنی ہدایتیں اور شریعتیں نازل کی گئی ہیں وہ انسان پر نازل کی گئی ہیں وہ گدھے یا گھوڑے یا بیل یا دوسرے جانوروں پر نازل نہیں کی گئیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ شرعی تقاضوں کو پورا کر کے روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان میں انسانی اقتدار قائم ہوں۔اگر انسان انسانی اقدار کو قائم نہیں کرتا تو روحانی ارتقاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب کسی سلسلہ میں یا کسی قوم میں یا بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان میں روح خدمت نہ ہو اس وقت تک اس سلسلہ یا اس قوم یا بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان میں انسانی اقدار قائم نہیں ہوسکتیں۔اگر ہم انسانی اقدار کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خدمت کی روح کو زندہ کرنا پڑے گا اور اس خدمت کی زندہ روح کو لے کر کام کے میدان میں سرگرم عمل رہنا خدام الاحمدیہ کا ضروری پروگرام ہے۔خدام الاحمدیہ اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے اس کام میں لگ جائیں کیونکہ خدمت اسلام واحمدیت تقاضا کرتی ہے خدمت انسان کا۔جو شخص انسان کی خدمت نہیں کرتا وہ احمدیت کی خدمت نہیں کرتا۔احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز ہیں اور اسلام نے بنی نوع انسان کی بحیثیت بنی نوع انسان خدمت کی ہے۔وہ ایک مسلمان کو بلاتا ہے اور کہتا ہے تم نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دہر یہ جو مجھ کو گالیاں دیتا ہے ( تم نے اس کے حقوق کو بھی تلف نہیں کرنا ) اس کے حقوق کی بھی تم نے حفاظت کرنی ہے تب یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ کسی وقت اپنے پیدا کرنے والے ربّ کی طرف رجوع کرے۔اگر تم اس کے حقوق تلف کرو گے تو وہ کون سی ایجنسی دنیا میں دیکھے گا جو یہ ثابت کرے گی کہ پیدا کرنے والے رب کی ربوبیت سے کوئی انسان باہر نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کا کام ہے انسان کی خدمت، اس کے بغیر نہ اسلام کی خدمت ہوسکتی ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے احکام عبادت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔آپ اس خدمت کے جذبہ کو ، اس خدمت کی روح کو زندہ رکھ کر کام کریں اور دنیا کوخداکے نام پر اورمحمدرسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور کریں کہ واقعی مسلمان بنی نوع انسان کا خادم ہوتا ہے۔اگر آپ اسلام کے خادم ہونے کی حیثیت میں بنی نوع انسان کو یہ تسلیم کروا دیں کہ اسلام کا خادم بنی نوع انسان کا خادم ہوتا ہے تب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانوں کو سمجھنے لگیں گے جو واقعہ آپ نے ان پر کئے ہیں اور جن کو وہ اس وقت سمجھتے نہیں اور جس کے بغیر محبت اور پیار کا وہ تعلق قائم نہیں ہوسکتا جو بنی نوع انسان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونا چاہئے۔پس خدام الاحمد یہ روح خدمت کے ماتحت اپنے پروگراموں پر عمل کریں اور