سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 494

24 مطابق تینتیس فیصد کام کر کے کامیاب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں گناہوں کی معافی کا وعدہ تو دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کی بدیاں اور جن کے گناہ ان کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کا احاطہ کر لیں گے انہیں بہر حال جہنم کی تکلیف میں سے گزرنا پڑے گا۔اگر اللہ تعالیٰ معاف کرنا چاہے تو یہ اس کی شان اور قدرت ہے وہ اس کا بھی مظاہرہ کرتا ہے اور ہمارے دلوں میں اپنی محبت اور عظمت کو اس طرح بھی قائم کرتا ہے لیکن اس نے ایک عام اصول یہ بنایا ہے کہ اگر گناہ اور بدیاں نیکیوں اور اعمال صالحہ کو اپنے احاطہ میں لے لیں تو جہنم کی تکلیف میں سے گزرنا پڑے گا۔اگر آپ جیومیٹری کی ایک شکل کے ذریعہ اس احاطہ کو سمجھنے کی کوشش کریں تو جو دائرہ دوسرے کو اپنے اندر احاطہ کئے ہوئے ہے وہ قریباً 55 فیصد بنتا ہے۔پس اگر سو میں سے 45 نیکیاں ہوں اور 55 بداعمالیاں ہوں تو بد اعمالیوں کی سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ بد اعمالیوں نے سارے راستے بند کر دیئے۔انہوں نے ایک ایسا چکر ڈال لیا ہے کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔لیکن اگر ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ نیکیاں پچاس فیصد سے زائد ہوں تو پھر اگر بدیاں احاطہ کرنے کی کوشش کریں تو وہ احاطہ کر نہیں سکیں گی کیونکہ ایک دروازہ کھلا رہ جاتا ہے اور وہ نجات کا دروازہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور وہاں سے اپنے بندے کو اپنے احسان سے نکال لیتا ہے۔اس گرفت سے اسے چھڑا لیتا ہے جو اس کی بدیوں نے اس کے گردا حاطہ کر کے کی ہوئی ہوتی ہے غرض اس دنیا کے غلط اصول کے مطابق تو ایک نوجوان تینتیس فیصد نمبر لے کر کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو قانون قرآن کریم میں وضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاس ہونے کے لئے کم از کم پچپن فیصد نمبروں کی ضرورت ہے استثنائی صورت اس کے علاوہ ہے۔خدا تعالیٰ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو وہ اور بات ہے۔اس کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پس نیکیوں کا پلڑا بدیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں کے پلڑے پر غالب اور وزنی رہنا چاہئے۔نیکیوں کا دائرہ بدیوں کے دائرہ سے بڑا ہونا چاہئے ورنہ نجات کی راہ عام اصول کے مطابق بند ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں کی تجلیات کا تو ذکر نہیں۔اللہ تعالیٰ ویسے بھی فضل ہی کرتا ہے لیکن عام اصول کے مطابق اگر بدیاں اس طرح پھیلی ہوئی ہوں کہ باہر نکلنے کا راستہ تنگ ہو تو پھر نیکیوں کے باوجود انسان ہلاکت میں چلا جاتا ہے۔نیکیوں کی توفیق بھی فضل الہی سے ہی ملتی ہے۔اسی واسطے اسلام نے یہ کہا ہے کہ نجات خدا کے فضل کے ذریعہ ہی حاصل ہوتی ہے۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو صرف اس بات سے خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ انہوں نے 30 فیصد یا 40 فیصد نمبر لے لئے ہیں۔خدمت بنی نوع انسان کی اس تنظیم کو تو سو فیصد سے کم نمبروں پر خوش ہونا ہی نہیں چاہئے۔انسان چونکہ فطرتا کمزور ہے اس لئے ہم دس پندرہ فیصدی کا چھوٹا سا مارجن (Margin) رکھ لیتے ہیں یعنی اگر پچاسی یا نوے فیصد کامیابی نہ ہو تو وہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔ان دونوں تنظیموں کو یادرکھنا چاہئے کہ