سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 496
26 انصار اللہ روح تربیت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام پر عمل کریں۔روح تربیت بھی روح خدمت ہی ہے صرف اس کی شکل بدلی ہوئی ہے۔اس لئے ہر دو تنظیمیں اس طرح بنی نوع انسان کی خدمت میں لگ جائیں اور لگی رہیں کہ اپنے نفسوں کا بھی خیال رکھیں، اپنے رشتہ داروں اور عزیز واقارب کا بھی خیال رکھیں ، پھر یہ دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ تمام بنی نوع انسان کو اپنے اندر سمیٹ لے اور خدا کے نام پر اسلام کی اشاعت میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بنی نوع انسان کے دل میں پیدا کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو ہر وقت تیار رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کی توفیق عطا کرے۔اہل ربوہ کو نماز با جماعت ادا کرنے کی توفیق عطا کرے اور ذمہ دار دوستوں کو ان کی نگرانی کی توفیق عطا کرے۔فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت کے دوستوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو وعدے لکھوائے ہیں وہ ان کی ادائیگی کر دیں تا وہ بہترین جزا کے وارث بنیں۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ تکبر اور ریاء کے بغیر اپنے اپنے پروگرام اور دائرہ کے اندر بے نفس اور بے لوث خدمت کرنے والے ہوں کہ اللہ کی توفیق سے ہی سب نیکیوں کی توفیق عطا ہوتی ہے اور اللہ کے فضلوں سے ہی نیکیوں اور اعمال صالحہ کے نیک انجام نکلتے ہیں۔" ( خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 645-648) ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات میں تمام مجالس کی نمائندگی ضروری ہے ضور نے خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1969ء میں فرمایا۔پچھلے دنوں ناصرات الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجتماع تھے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا، بڑی رحمتیں نازل کیں اور ہر طرح خیر و برکت کے ساتھ یہ اجتماع انجام پذیر ہوئے اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جیسا کہ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ ایک زندہ فعال الہی جماعت ہر قدم آگے ہی آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ہمارے یہ اجتماع بھی گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ بارونق اور زیادہ بابرکت اور زیادہ مخلصانہ ماحول میں ہوئے۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِك لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔انصار اللہ کے اجتماع میں سب سے زیادہ مجالس کی نمائندگی تھی لیکن اس نمائندگی کی تعداد بھی صرف 346 کے قریب تھی جب کہ ہماری مغربی پاکستان کی جماعتیں قریباً ایک ہزار ہیں۔ہمارا مقصد ہمیں صرف اس وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ جب ہم یہ کوشش کریں اور ہماری روایت اور معمول یہ ہو کہ ان اجتماعات میں ہر جماعت کی نمائندگی ضرور ہو اور یہ کم سے کم معیار ہے۔ترقی کے مختلف مدارج میں سے گزرتے ہوئے ابھی ہم اس کم سے کم معیار تک بھی نہیں پہنچے " خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 946)