سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 464

سبیل الرشاد جلد دوم 464 کرواؤں۔میں نے دو تین باتیں ذہن میں رکھیں۔ایک یہی تھی کیونکہ چیئر مین ماؤزے تنگ نے ایک مضمون لکھا کہ تضاد کو ( یہ کسی علاقے کے متعلق تھا ) یہاں کس طرح دور کیا جائے تو میں نے ان سے کہا مجھے بھی دلچسپی ہے اگر انگریزی ترجمہ ہو تو آپ مجھے دیں میں پڑھنا چاہتا ہوں۔پھر میں نے یہاں سے بات شروع کی نا ، توجہ ان کی اپنی طرف پھیرنے کے لئے۔میں نے کہا آپ حیران ہوں گے کہ ۱۹۵۸ء میں کچھ حالات پیدا ہوئے اور ان حالات کے پیش نظر چیئر مین ماؤ نے اس خاص خطہ میں جو حالات پیدا ہوئے وہاں کے CONTRADICTIONS کے متعلق ایک مضمون لکھا۔مجھے اس میں کیسے دلچسپی ہو گئی اور کیوں دلچسپی پیدا ہوگئی۔میں نے کہا مجھے اس لئے دلچسپی پیدا ہوئی کہ ہمیں قرآن کریم نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں کوئی CONTRADICTION نہیں ہو گی، تمہیں نظر نہیں آئے گی اور کوئی نہیں ہے۔اور تمہاری زندگیوں میں بھی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں CONTRADICTION‘ تضاد نہیں ہونا چاہئے۔پھر میں نے اس کو بتایا کہ خدا نے مجھے قوت مشاہدہ دی ہے۔میں نے بڑا سوچا غور کیا لوگوں کے حالات کا مشاہدہ کیا اس نتیجہ پہ پہنچا کہ اکثر ناکامیاں، تضاد CONTRADICTION کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً آپ کو ایک بات بتاؤں CONTRADICTION کی۔ایک نوجوان لڑکا غالبا تین سال تک ہر سال مجھے یہ لکھتا رہا، دعا کریں میں یونیورسٹی میں فرسٹ آؤں اور وہ ہر سال ہر مضمون میں فیل ہوتا تھا۔جو اس کی قابلیت ہی نہیں تھی وہ اس کی خواہش تھی۔تو جب خواہش اور قابلیت کا تضاد ہوا، ناکامی پیدا ہو گئی۔تو وہ بڑا حیران ہوا۔اس کے اوپر بڑا اثر پڑا کہ اچھا اسلام اور قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے CONTRADICTION کے متعلق۔اور بھی دو باتیں تھیں۔تین باتیں اس کے سامنے رکھیں قرآن کریم کی عظمت کو ثابت کرنے کے لئے۔اس لئے ایک تو مجلس تو ازن میں قائم کرنا چاہتا ہوں جس میں جماعت احمدیہ، انصار اللہ اور خدام اور لجنہ کے نمائندے ( جس شکل میں بھی ہوں ) یہ آئیں اور وہ میزان پیدا کریں۔ہماری ، ایک تو جماعت ہے وہ سب کے اوپر حاوی ہے اور نیچے دوسری ایسوسی ایشنز ہیں۔ہم ایک جہت کی طرف پورا زور لگا رہے ہوں جس طرح رسہ کشی میں سارے رستہ کھینچنے والے ایک ہی طرف زور لگارہے ہوتے ہیں اگر پانچ ANGLE کا بھی فرق پڑ جائے کسی ایک رستہ کھینچنے والے کا تو ٹیم ہار جاتی ہے۔ایک سدھائی میں وہ رستہ کھینچا جائے تبھی ٹیم جیتی ہے ورنہ نہیں جیتی۔اس واسطے ایک سدھائی کی طرف ایک سیدھا پوائنٹ ہمارے سامنے ہے نقطہ مرکزی ، صراط مستقیم ، اس کے اوپر سارے چل کے آگے بڑھ رہے ہوں۔یہ ایک تو بنیادی، ایک نئی بات کا میں اعلان کر رہا ہوں۔یہ قائم ہو جائے گی ایک مہینے کے اندر۔