سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 463
463 سبیل الرشاد جلد دوم پیدا کر دیا نا۔دین کی خدمت اور نفس کے حقوق یعنی غیر کے حقوق ( دین کی خدمت کا مطلب ہے غیر کے حقوق ) غیر کے حقوق اور نفس کے حقوق میں ایک توازن پیدا کیا۔انہوں نے کہا تو ازن قائم رکھو۔اپنے نفس کا حق بھی ادا کرو اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرو۔کیونکہ اگر اپنے نفس کے حقوق ادا نہیں کرو گے تو غیروں کے حقوق ادا کرنے کے قابل نہیں رہو گے۔اگر اپنے نفس کے حقوق ادا نہیں کرو گے اور اپنا کھانا لمبے عرصے تک کسی ایسے شخص کو ، کھانا جس کو میسر نہیں کھلاتے رہو گے تو بیمار پڑ جاؤ گے اور اِذَا مَرِضْتُ کا مقام ہو جائے گا تمہارا۔ایک قیادت کا جو مقام اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کو دیا وہ اس سے چھن جائے گا۔اس لئے ہماری جو تنظیمیں ہیں ان کے اندر بھی ایک توازن ہونا چاہئے۔اس طرف ابھی تک توجہ شاید اس لئے نہیں تھی کہ ابھی ابتداء تھی نشو و نما کی ، اس لئے میں نے انتظامی ڈھانچے میں بھی کچھ تبدیلیاں سوچی ہیں۔کچھ میں بعد میں بتاؤں گا ، وہ نشو ونما کے ذریعے سے پیدا ہوں گی۔ایک تو یہ کہ مثلاً اطفال ہیں۔یہ خدام الاحمدیہ کی ایک برانچ ہے لیکن ان کا تعلق ماں سے بھی ہے اور باپ سے بھی۔جو انصار کا ہو، تو جہاں تک اطفال کا تعلق ہے (میں موٹی ایک مثال دے رہا ہوں آپ کو سمجھانے کے لئے ) اس میں انصار بھی بیچ میں آجاتے ہیں، لجنہ اماءاللہ بھی بیچ میں آجاتی ہے۔یہ خرابی اس طرح پیدا ہوئی (میں خود بھی رہا ہوں صدر خدام الاحمدیہ اور اب بھی میرے سامنے ایسی باتیں آتی ہیں کہ بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ”جی اسی بچہ خدام دے سپرد کر دتا تے ہن سانوں اوہدے نال کوئی تعلق نہیں۔کیوں نہیں تعلق ؟ تمہارے خدا نے اس کے ساتھ تعلق پیدا کیا۔تو ایک توازن ہونا چاہئے تنظیموں کے درمیان۔باپ اس کا انصار میں ہے ، ماں اس کی لجنہ میں ہے۔ان کا آپس میں تعلق ہونا چاہئے۔جو تربیت کے لئے اور مختلف استعدادوں کی نشو ونما کے لئے ہماری کوشش ہے جب تک ماں اور باپ تنظیم کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے یعنی ان کی تنظیمیں، فرد بھی اور تنظیمیں بھی، اس وقت تک ہم کامیاب ہی نہیں ہو سکتے۔مثلاً ایک بچہ ہے وہ صحت کے لحاظ سے کمزور ہے۔خدام الاحمدیہ اس کا طبی معائنہ کرواتی ہے اور کہتی ہے اسے ملٹی وٹامنز کی ضرورت ہے۔بہت ساری وٹامنز اس کو کھانی چاہئیں۔اب خدام الاحمدیہ کے ذمے یہ کام ہی نہیں ہے کہ ہر طفل کو حسب ضرورت وٹامنز خرید کے دے اور MINERALS خرید کے دے۔وہ کہیں گے ماں باپ کو کہ تم کرو اور ماں باپ اس طرف توجہ نہ دیں تو میزان UPSET ہو گیا نا۔تضاد پیدا ہو گیا۔خدا نے کہا تھا کہ میری صفات کے جلوے پیدا کرو اور ان جلووں میں تضاد نہیں۔ہماری زندگی میں تضاد پیدا ہو گیا۔ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ایک دفعہ مجھے چینی سفیر سے ملنے کا اتفاق ہوا۔میں تو سوچتا یہی ہوں کہ اسلام کا تعارف