سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 451

سبیل الرشاد جلد دوم فَعَّالٌ لِمَا يُريدُ ہے۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر دی ہے اور میں نے اپنا پیام پہنچا دیا ہے۔اب اس کو سنا نہ سُنا تمہارے اختیار میں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : قرآن شریف اپنے نصوص قطعیہ سے اس بات کو واجب کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابل پر جو موسوی خلیفوں کے خاتم الانبیاء ہیں اس امت میں سے بھی ایک آخری خلیفہ پیدا ہوگا تا کہ وہ اسی طرح محمدی سلسلہ خلافت کا خاتم الاولیاء ہو۔مجددانہ حیثیت اور لوازم میں حضرت عیسی علیہ السلام کی مانند ہو اور اسی پر سلسلہ خلافت محمد یہ ختم ہو جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر سلسلہ خلافت موسویہ ختم 2 66 451 ہو گیا ہے۔“ قرآن کریم کی آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلت ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے کا وہ مسیح خاتم خلفائے محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔سب سے پہلے خلیفہ جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور اُن کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے اختیار کیا۔یہ بات بہت ضروری یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر ایک دائرہ کا عام قاعدہ یہی ہے کہ اُس کا آخری نقطہ پہلے نقطہ سے اتصال رکھتا ہے لہذا اس عام قاعدہ کے موافق خلافت محمدیہ کے دائرہ میں بھی ایسا ہی ہونا ضروری ہے یعنی یہ لازمی امر ہے کہ آخری نقطہ اُس دائرہ کا جس سے مراد مسیح موعود ہے جو سلسلہ خلافت محمد یہ کا خاتم ہے۔وہ اس دائرہ کے پہلے نقطہ سے جو خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نقطہ لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۹۰ تحفہ گولڑ و یه صفحه ۹۶ روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۱۸۲ تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۳