سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 450 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 450

450 سبیل الرشاد جلد دوم اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہو گیا اور اُس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا۔پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو ہدایت کا دور تھا۔یہ وہ ہزار ہے جس میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر تو حید کو دوبارہ دُنیا میں قائم کیا۔پس آپ کے منجانب اللہ ہونے پر یہی ایک زبر دست دلیل ہے کہ آپ کا ظہور اُس ہزار کے اندر ہوا جو روز ازل سے ہدایت کے لئے مقرر تھا۔اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں سے یہی نکلتا ہے۔اور اسی دلیل سے میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا بھی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ اس تقسیم کی رُو سے ہزار ششم ضلالت کا ہزار ہے اور وہ ہزار ہجرت کی تیسری صدی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چودھویں صدی کے بر تک ختم ہوتا ہے۔اس ششم ہزار کے لوگوں کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے۔اور ساتواں ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو۔اور اسکے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظن کے ہو۔لیکچر لدھیانہ میں آپ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے اب کوئی شریعت نہیں آ سکتی۔قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔اس میں اب ایک شعشہ یا نقطہ کی کمی و بیشی کی گنجائش نہیں ہے ہاں یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہدایت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔وہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود ہیں اور انہی فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں : میں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔وہ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۸ • لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۷۹