سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 452
سبیل الرشاد جلد دوم 452 ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کے دائرہ کا پہلا نقطہ جو ابوبکر ہے۔وہ اس دائرہ کے انتہائی نقطہ سے جو مسیح موعود ہے اتصال تام رکھتا ہے۔جن حوالوں پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھتے ہوئے نشان لگائے ہیں وہ بیسیوں ہیں جو یہی بات بیان کر رہی ہیں لیکن وہ ساری کی ساری تو یہاں بیان نہیں ہو سکتی تھیں۔میں اس وقت آپ کے سامنے اب اس کا خلاصہ بتا تا ہوں۔ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات ، ہر وصف میں یکتا ہیں۔کوئی نظیر آپ کا نہیں ملتا اس آدم کی نسل میں۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ آپ یکتا ہیں ہر صفت میں۔اس صفت میں بھی یکتا ہیں کہ جوڑ وحانی فیوض آپ کی اتباع کے نتیجہ میں نوع انسانی کو مل سکتے ہیں اور ملے ہل رہے ہیں اور آئندہ ملتے رہیں گے وہ اُن روحانی فیوض سے کہیں زیادہ ہیں اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی ، اپنی رفعتوں کے لحاظ سے بھی اور اپنی شان کے لحاظ سے بھی جو پہلے شرعی انبیاء کی امتوں کو ملے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کے معنی ہیں براہ راست موہبتِ باری تعالیٰ کے نتیجہ میں نبوت مل گئی۔اس مقام پر کھڑے کئے جانے میں اسرائیلی نبیوں کی اگر مثال ہم لیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رُوحانی فیوض کا کوئی دخل نہیں تھا یعنی یہ ضروری نہیں تھا بلکہ واقعہ یہ نہیں تھا کہ آپ کی اتباع ، پوری کی پوری لازم ہوتی۔اس لئے ایک مسلسل تدریجی تبدیلی اُس کے اندر پیدا ہو رہی تھی۔ہر نبی آکے کوئی نہ کوئی تبدیلی پیدا کر دیتا تھا خدا کے حکم سے۔تو ایک وہ شریعت جو پتھر کی پلیٹوں پر کندہ ہو کر اُن کو دی گئی اور ایک وہ جس کے اندر پھر بھی تبدیلیاں ہوئیں اور ہر اسرائیلی نبی کو ضرورت کے مطابق ہر علاقہ میں وحی کے ذریعہ تبدیلی کا حکم ملا۔ایک علاقہ میں ایک حکم چل رہا ہے دوسرے میں ایک اور حکم۔انسانیت اپنے ارتقاء کے ادوار میں سے گزر رہی تھی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔انسانیت اپنی ارتقاء کو پہنچ چکی تھی۔ایک کامل اور مکمل شریعت کو سمجھنے کی اس معنی میں اہلیت رکھتی تھی کہ ہر آنے والا زمانہ اپنی ضروریات کو سمجھنے کے لئے خدا سے ایک مظہر یا بہت سے مطہر وجود پاتا تھا جنہیں اللہ تعالیٰ معلم حقیقی کی حیثیت سے لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی میں تفسیر کر رہا ہوں قرآن کریم کے وہ بطون سمجھا تا تھا جو اُس زمانہ یا اُس خطہ کے مسائل کو حل کرنے والا تھا۔لیکن اُس پیش خبری کے عین مطابق جو امت محمدیہ کو دی گئی تھی کہ میرے علماء جو ہوں گے ، علمائے رُوحانی۔وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح ہوں گے۔میری طرح نہیں ہوں گے۔اُس میں یہ خبر دی گئی تھی۔یہ نہیں آپ نے فرمایا کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَمَثَلِی۔یہ نہیں کہا آپ نے تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد۱۷ حاشیہ صفحہ ۱۹۱