سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 27

سبیل الرشاد جلد دوم دوسرا خطره جو ایسی الہی جماعت کو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا 27 کی کیفیت پیدا ہو جانے کے بعد بھی پاؤں پھسلنے کا امکان باقی رہتا ہے کیونکہ شیطان اپنے تمام وساوس کے ساتھ ایسے شخص پر حملہ آور ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے پھسل جائے۔شیطان نے تو ا خدا تعالیٰ سے یہی کہا تھا نا کہ جو تیرے قریب آئے گا اس کو پرے ہٹانے کی اجازت دے دے اور اللہ تعالیٰ نے کہا تھا ٹھیک ہے تو اپنا زور لگا لے۔لیکن جو واقعہ میں میرے ہیں۔وہ تیرے کبھی نہیں ہوں گے۔تیرے وہی ہوں گے جو حقیقتاً میرے نہیں بنے۔ایک حد تک انہوں نے میرا قرب حاصل کیا۔لیکن وہ میرے کامل بندے نہیں بن سکتے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا الَّذِى أَتَيْنَهُ ابْتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكَانَ مِنَ الْغُوِيْنَ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلكِنَّةَ اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَونَهُ ) یعنی سننے والوں کو اس شخص کے حالات بھی پڑھ کر سناؤ۔جس کو ہم نے اپنے نشانات کا ایک خلعت عطا کیا تھا۔اس نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا اور ہم نے اپنے وعدہ کے مطابق اس مجاہدہ کا اسے انعام دیا۔اور ہم نے اس پر فرشتوں کا نزول کرنا شروع کر دیا۔گو اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔اور وہ دلوں کو جانتا ہے۔لیکن چونکہ لوگوں کو غلطی لگنے کا امکان تھا۔چونکہ لوگوں کے پھسلنے کا امکان تھا۔اس لئے جب ظاہر بین نگاہ نے اس کو رَبُّنَا اللہ کہتے اور اپنے دعوئی پر استقامت سے قائم ہوتے ہوئے دیکھا۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں بظاہر قربانیاں کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا چلو! اس سے باتیں کرو۔لیکن چونکہ حقیقی عبودیت اور نیکی ایسے شخص کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی اس لئے فَانسَلَخَ منها - خدا تعالیٰ نے جو خلعت اس کو پہنایا تھا اس نے اس کی بجائے اور کپڑے پہننے چاہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اپنے انعام کو واپس لے لیا۔انسلخ کے اصلی معنے یہ ہیں کہ اِنسَلَخَ مِنْ ثِيَابِهِ - تَجَرَّدَ - اس نے کپڑا اتار دیا۔اور ننگا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَانْسَلَخَ مِنْهَا یعنی ہم نے اپنی آیات اور نشانات اور الہام اور کشوف اور رؤیا کے ذریعہ ایک 1 سورہ اعراف آیت ۱۷۶-۱۷۷