سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 28
28 سبیل الرشاد جلد دوم خلعت اس کو عطا کیا گیا تھا۔مگر اس نے اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے لباس التقومی کو اتار کر لباس نمائش، لباس فخر اور لباس تکبر پہننا چاہا تو چونکہ لِبَاسُ التَّقوی کے ہوتے ہوئے دوسرے لباس نہیں پہنے جا سکتے۔اس لئے اس نے خدا تعالیٰ کے عطا کر دہ خلعت کو اتار دیا۔اور تکبر کا جو چولہ تھا وہ پہن لیا۔نخوت کا چولہ اس نے اپنے اوپر ڈال لیا۔جب اس کے دل کی یہ حالت ہوئی تب شیطان کو پتہ لگا کہ یہ تو نیک بندہ نہیں ہے۔پہلے تو ڈر کے مارے شیطان اس کے پاس نہیں جاتا تھا۔لیکن جب شیطان نے اس کی فَانْسَلَخَ مِنْهَا کی کیفیت دیکھی تو اس نے کہا او ہو غلطی ہو گئی۔اس کو پہلے ہی شکار کر لینا چاہئے تھا۔تب شیطان نے کیا کیا ؟ فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطن شیطان نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔فَكَانَ مِنَ الْغُوِيْنَ اور اس تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں اس نے جا پھینکا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا کہ اگر ہمیں یہ بات پسند ہوتی کہ ظاہری تقویی کافی ہے تو ہم ایسے لوگوں کا حقیقی روحانی رفع کر دیتے۔لیکن ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے۔ہمیں تو حقیقی نیکی ، حقیقی تقوی پسند ہے۔اس لئے ہم ایسے لوگوں کا رفع نہیں کیا کرتے - وَلكِنَّةَ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ایسے لوگ زمین کی طرف جھک جاتے ہیں اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے ہوں۔اللہ تعالی کی نگاہ میں رفع روحانی نہیں ہوا کرتا۔یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ایک وقت تک ظاہری لحاظ سے نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ دوسروں کو ابتلاء سے بچانے کی خاطر ان کی ظاہری نیکیوں کو دیکھتے ہوئے بھی باوجود اس کے کہ وہ ان کے حالات کو جانتا ہے ان کے ساتھ ایک حد تک فرشتوں کے ذریعہ محبت اور پیار کا سلوک بھی ظاہر کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے کہ ابدی تعلق اس شخص کا میرے ساتھ نہیں ہے۔اس لئے یہ میری ابدی رحمتوں کا وارث نہیں ہو گا۔چنانچہ اس علم الغیب اور حقیقی علم کے نتیجہ میں دنیا پھر یہ نظارہ دیکھتی ہے کہ اس شخص نے روحانی چونے کو اتارا اور دنیوی خوبصورت لباس کو پسند کیا۔تب وہ خدا تعالیٰ کے دروازہ سے دھتکارا گیا اور شیطان کی گود میں جا بیٹھا۔پس یہ مقام خطرہ کا مقام ہے۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کی لعنت اور اس کے قہر کا مورد ہو جانا ، کوئی ایسا انسان جس میں ذرہ بھر بھی عقل ہو۔ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ظاہری نمود اور نمائش کی خاطر حقیقی خوشیوں کو چھوڑ دینا انتہائی بدبختی ہے۔ایسے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کا اظہار کرے جب تک انجام بخیر نہ ہو جائے ہر وقت خوف سے گھومتے رہتے ہیں کہ ہماری کسی کوتا ہی یا غفلت یا شامت اعمال کے نتیجہ میں کہیں اللہ تعالیٰ کا غضب ہم پر نازل نہ ہو۔جیسا کہ میں