سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 26
سبیل الرشاد جلد دوم جذبات پیدا ہوں گے۔آپ کو وہ مقام حاصل تھا جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔26 تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی خوف نہیں تھا ، کوئی حزن نہیں تھا۔خدا تعالیٰ کے شیر کی مانند آپ ان فتنوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے۔ان کا مقابلہ کیا۔ذرا بھی کمزوری نہیں دکھائی۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لشکر باہر بھجوایا تھا بڑے بڑے صحابہؓ نے بھی اسے واپس بلانے کا مشورہ دیا تھا لیکن آپ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر کو باہر بھجوایا ہو۔اور آپ کا خلیفہ ابوبکر اسے واپس بلا لے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ امتی اور ظلی نبی کی حیثیت میں تمہیں مبعوث فرماتے ہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل ہونے کی حیثیت میں جو مقام آپ نے حاصل کیا ہے۔وہ ظلیت میں پہلے انبیاء سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ پہلے انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل نہیں تھے۔تو اس کے بعد دنیا میں بہت سارے مدعی نبوت پیدا ہو گئے۔کچھ جماعت میں بھی پیدا ہو گئے اور مدعیان نبوت کا پیدا ہونا ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔بعض بد بخت اور بدقسمت انسان اس وقت ٹھو کر بھی کھا جاتے ہیں۔ہماری جماعت کے بھی دو چار یا پانچ دس ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ٹھوکر کھائی۔بہر حال ایک تو یہ ابتلا آتا ہے کہ بہت سے مدعیانِ نبوت پیدا ہو جاتے ہیں۔اور بعض کمزور ایمان والوں کی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔اس لئے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔اور اسی طرح دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔جس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔یعنی اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق بہترین تدبیر اختیار کی۔تدبیریں بدل جاتی ہیں لیکن ان کی روح نہیں بدلا کرتی۔اسی اخلاص کے ساتھ ، اسی درد کے ساتھ اسی جوش کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے جس اخلاص، درد اور جوش کے ساتھ حضرت ابو بکر نے اس فتنہ کا مقابلہ کیا۔یہ زمانہ تلوار کا نہیں۔ہمارے سارے مقابلے قلم سے ہیں۔ہمارے سارے مقابلے تحریر سے ہیں۔ہمارے سارے مقابلے دلائل اور براہین سے ہیں۔اور دراصل تو ہمارے سارے مقابلے عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ہیں۔یہ حربے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں۔چوکنا رہ کر اور بیدار رہ کر اس قسم کے فتنوں کا جماعت کو مقابلہ کرنا چاہئے۔جب بھی ضرورت پیش آئے اور جہاں بھی ضرورت پیش آئے۔