سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 376
376 سبیل الرشاد جلد دوم نے بڑی غلطی کی ، غالبا ان کے پاس پیسے نہیں ہوں گے۔انہوں نے بہت کم تعداد میں چھپوا دیا۔انہوں نے اپنے ملک میں نہیں بلکہ باہر کے ایک ملک میں جہاں ان ملکوں کے لئے بظاہر بہت اچھا چھپتا ہے ، پانچ ہزار کی تعداد میں چھپوایا۔اور اس قرآنی ترجمہ کی ایک کاپی بطور نمونہ میرے پاس لندن بھیجی اور ساتھ ہی یہ خط بھیجا کہ یہ تو ختم ہو رہا ہے۔ہمیں فوری طور پر دوسرے ایڈیشن کے لئے خط لکھنا پڑ رہا ہے۔ہمارے تراجم بہت مقبول ہیں۔دن کے وقت بھی مقبول ہیں اور رات کے وقت بھی مقبول ہیں۔یعنی ایسے لوگ بھی ہیں جو دن کی روشنی میں آکر قرآن کریم لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس ترجمہ سے جو آپ نے کیا ہے ہمیں تسلی ہوتی ہے اور ایسے بھی ہیں جو دن کے وقت آتے ہوئے شرماتے ہیں یا ڈرتے ہیں اور رات کو اندھیرے میں چپکے سے آتے ہیں، کہتے ہیں کسی کو بتانا نہ لیکن اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہمیں قرآن کریم کا ترجمہ دے دو۔دونوں قسم کے لوگ ہیں۔یورپ اور امریکہ میں رات کو آنے والے میرے خیال میں کم ہی ہوں گے یا نہ ہوں گے۔لیکن افریقہ کے ممالک میں بہت سے ایسے بھی ہیں۔ہمارے پاس خبریں آتی رہتی ہیں بہر حال یہ ایک کام کرنا ہے۔اگلی صدی کے آنے سے پہلے یہ کام شروع ہو جانا چاہئے تا کہ جس وقت وہ صدی آئے اور خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے اور کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگیں اور آپ سے آکر کہیں کہ ہمیں اسلام کے متعلق کتابیں دو، قرآن کریم کے تراجم دو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات دو۔اسلام نے بچوں کو جو تعلیم دی ہے اور اسلام نے جو اخلاق سکھائے ہیں ، اس کے متعلق ہمیں لٹریچر دو۔تو ہم یہ کہتا ہیں انہیں مہیا کر سکیں۔ہزاروں کتابوں کی ضرورت ہے ایسا نہ ہو کہ ہمیں یہ جواب دینا پڑے کہ وہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ہم علی وجہ البصیرت اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا ہے اور اگر ہم نے اس کے مطابق کام نہ کئے تو ( اللہ محفوظ رکھے ) یہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آنے والی بات ہے۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ جتنا ہم کر سکتے ہیں وہ ہمیں کر دینا چاہئے۔ہمارا خدا بڑا پیار کرنے والا ہے۔خدا یہ نہیں کہتا کہ جتنے کی ضرورت ہے وہ کرو بلکہ خدا یہ کہتا ہے کہ جتنے کی طاقت ہے وہ کرو اور ضرورت اور طاقت کے درمیان جو فرق ہے وہ میں پورا کروں گا۔سارے کا ثواب تمہیں دے دوں گا وہ مفت کا ثواب دیتا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ جتنی طاقت ہے وہ کرو۔امریکہ کی بڑی آبادی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ پہلا قدم یہ ہے کہ دس لاکھ قرآن کا ترجمہ امریکہ میں تقسیم کیا جائے ، فروخت کیا جائے اور ایسا انتظام کیا جائے کہ لائبریریاں خریدیں۔بہت بڑا منصوبہ ہے۔کئی سال ہوئے میں نے اس کا اعلان کیا تھا۔پھر میں نے سوچا کہ اس کے لئے پیسے کہاں سے