سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 375
سبیل الرشاد جلد دوم 375 مشن ہاؤس نہیں ہیں وہاں مسجد اپنے وقت پر بن جائے گی۔لیکن فی الحال کسی مناسب جگہ پر کوئی مکان خرید لیا جائے جو اس ملک کی جماعت احمدیہ کی ملکیت ہو۔ملک ملک جماعت احمدیہ آزاد ہے۔اور وہ خرید تے بھی ہیں وہ اپنے چندے اکٹھے کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے وہ بہت کوششیں کرتے ہیں۔میرا دل تو یہی کرتا تھا کہ میرے لندن چھوڑنے سے پہلے ان سارے ملکوں میں مکان خرید لئے جائیں اور اس وقت یورپ کے مختلف ممالک کی جماعتوں کے پاس ان کے اپنے چندے اتنے ہیں کہ اس میں کوئی روک نہیں تھی۔ہم نے یہاں سے تو پیسہ بھیجنا نہیں۔انہوں نے ہی ایک دوسرے کی مدد کر کے خریدنا ہے۔لیکن اس وقت تک ابھی مناسب جگہ پر مناسب قیمت پر کوئی مکان نہیں ملا تھا۔ایک ملک جس کو ہم نے بوجہ چھوٹا ہونے کے چھوڑا ہوا تھا بیلجیئم ہے۔فرینکفرٹ، میں بیلجیئم کی قونصلیٹ کے انچارج مجھے ایک موقع پر ملے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارا ملک کیوں چھوڑا ہوا ہے۔سارے یورپ میں صرف ایک ہمارا ملک ہے جس نے یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے باہمی فیصلے اسلامی فقہ کے مطابق ہوں گے، ہلکی قانون کے مطابق نہیں ہوں گے۔ہم نے آپ کا اتنا خیال رکھا ہے لیکن آپ نے ہمارے ملک کو چھوڑ ہی دیا ہے اور سوچ ہی نہیں رہے کہ یہاں بھی مشن قائم ہو۔چنانچہ میں نے وہاں آدمی بھیجا کہ پتہ کرو۔اس کے بعض حصے فرانسیسی بولنے والے بھی ہیں۔میرا خیال تھا کہ اس علاقہ میں جو فرانسیسی بولنے والا ہے اس وقت ہم کوئی مناسب مکان لے کر اپنا مبلغ بھیج دیں اور وہ وہاں جا کر کام کرے۔دوسرے اس وقت یورپ اور امریکہ اور افریقہ بلکہ مجھے یوں کہنا چاہئے کہ ساری دُنیا جماعت احمدیہ سے یہ مطالبہ کر رہی ہے اور اس مطالبے میں شدت پیدا ہو رہی ہے کہ ہمیں قرآن کریم کے تراجم دو اور ساری دنیا میں قرآن کریم کے تراجم پہنچانا بڑا وقت چاہتا ہے اور بڑی محنت چاہتا ہے اور بڑی قربانی چاہتا ہے اور بڑا منصوبہ چاہتا ہے۔ہر ملک کا اپنا مزاج ہے اور پڑھنے کے لحاظ سے اپنی عادتیں ہیں۔میں مثال میں غیر مذہبی کتب لے لیتا ہوں جس قسم کی چھپی ہوئی کتاب کے متعلق ہمارے ملک میں کہیں گے کہ بڑی اچھی چھپی ہوئی ہے اور پڑھنے والے بڑے شوق سے خریدیں گے، بڑے افسوس کی بات ہے کہ پڑھنے والے ہمارے ملکوں میں کم ہی ہیں۔بہر حال وہ کہیں گے کہ اس کی بہت اچھی اور معیاری کتابت اور طباعت ہوئی ہے وہ کتاب جس وقت یورپ میں جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بہت ہی رڈی چھپائی اور کتابت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی قیمتی چیز نہیں ہے۔ان کی اپنی عادتیں ہیں۔مغربی افریقہ کے ایک ملک کی جماعت احمدیہ نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور میرے خیال میں انہوں