سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 310
310 سبیل الرشاد جلد دوم یہاں تو ایک ہزار آدمی آ گیا ہے۔میں ہنس پڑا۔میں نے کہا جس کا ہم کام کر رہے ہیں وہ خود ہی اس کا انتظام کر دے گا۔تمہیں کیوں فکر ہے۔خیر یہ ایک فقرہ تھا جو ایک جذبہ سے میرے دل سے نکلا وہ میں نے کہہ دیا۔(اس وقت صحیح الفاظ مجھے یاد نہیں لیکن مفہوم یہی تھا ) جمعہ کی نماز ہوئی پھر احباب مل بیٹھے اور چائے، کافی، بوتل ، جو جس کی مرضی تھی پیا چلے گئے ، تو منتظمین میرے پاس آ گئے۔باچھیں کھلی ہوئی اور مسکراتے چہروں کے ساتھ مجھے کہنے لگے کہ خدا کی شان ہے۔ایک ہزار آدمی کو ہم نے لائٹ ریفریشمنٹ بھی پیش کر دی اور ہمارے پاس سامان بھی بچا پڑا ہے۔قرآن سے لوگوں کو دور کرنے کی ایک نئی افسوسناک روایت : پس یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں جنہیں ہم نے قرآن کریم کی تعلیم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مشاہدہ کیا ہے۔یہ سارا فیض تو دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیا گیا تھا جو آپ کی زندگی میں بھی ظاہر ہوا اور اب بھی ظاہر ہورہا ہے اور اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام ایک مُردہ مذہب ہے جس کی شان پہلے گزر چکی اب نہیں آسکتی۔ایسا نہیں۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔جو ہمیشہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔لیکن بعض لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ تم کہو نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ قرآن کریم میں کوئی صداقت نہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تم نے اس بات کے اظہار پر کیسے جرات کر لی۔یہ تو ایسی بات ہے کہ چودہ سو سال میں کسی عیسائی اور کسی یہودی تک نے کھل کر یہ نہیں کہا کہ نعوذ باللہ قرآن کریم ایک فضول کتاب ہے۔جو چیز آج تک نہیں ہوئی وہ تم اپنی طرف سے پیدا کر کے نئی روایات قائم کر رہے ہو۔اور احمدیوں سے کہتے ہو کہ وہ یہ کہیں قرآن کریم میں کوئی صداقت نہیں اور اس میں کوئی نو رنہیں ، قرآن کریم میں کوئی ہدایت نہیں ، اس میں کوئی رہبری نہیں، یا یہ کہ قرآن کریم انسان کو خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچا تا۔حالانکہ قرآن کریم نے ہدایت کو ایک ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اس ہدایت کے لانے والے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے لگے۔ہم احمدیوں کے دل میں قرآن کی عظمت گاڑ دی گئی ہے : ہم تو اس قرآن کو مانتے ہیں جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔جس میں قیامت تک کے انسان کے لئے رہبری اور ہدایت کے سامان موجود ہیں۔آج کے بعض ایسے مسئلے ہیں جن کے بارہ میں دُنیا کے دانا اور عقلمند لوگ، بڑے ہوشیار اور صاحب فراست لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اُن کوحل