سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 311
311 سبیل الرشاد جلد دوم کرنے کی کوشش کی لیکن اس صدی میں جو ہماری تاریخ کی پہلی صدی ہے ( حضرت مہدی علیہ السلام کے دعوی کے چند سال بعد بیسیویں صدی عیسوی شروع ہوئی ، جو اب ۷۶ ویں سال میں ہے ) دُنیا کے یہ عقلمند انسان ان مسائل کو حل نہیں کر سکے۔دو خطرناک بین الاقوامی جنگیں ان کی اس ناکامی پر گواہ ہیں۔دو عالمی جنگیں ہوئیں جنہوں نے ساری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انسان نے انسان کی گردن کاٹی۔کیا یہ مصیبت جو انسان پر انسان کے ہاتھ سے آئی یہ ثابت کرتی ہے کہ آج کے انسان کو قرآن کریم کی ضرورت نہیں اور وہ اپنے مسائل کو خود ہی حل کر سکتا ہے۔نہیں۔اس سے الٹ ثابت کرتی ہے۔یہ تو بڑی موٹی چیزیں ہیں جن کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ورنہ خود میرے جیسے ایک ناچیز انسان کے دماغ میں بھی سینکڑوں ہزاروں باتیں ایسی آتی رہتی ہیں اور میرا دماغ کہتا ہے اچھا! ایک یہ بھی چیز ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی عقل مسائل کے حل کے لئے کافی نہیں ہے۔اُسے خدا تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت ہے۔اس کے باوجو دلوگ کہتے ہیں تم اعلان کرو کہ ہم قرآن کریم کو سمجھتے ہی کچھ نہیں۔گویا ہم قرآن کریم کی صداقت کا انکار کریں۔ہم کیوں انکار کریں۔ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھی ہیں اور جن کے دل میں قرآن کریم کی عظمت گاڑ دی گئی ہے اور جن کے دلوں کی کیفیت یہ بنادی گئی ہے۔خدا نے ہماری روح کو آنحضرت کے عشق اور پیار سے بھر دیا ہے : - قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے تم ہمیں یہ کہتے ہو کہ ہم قرآن کریم کے ماننے سے انکار کر دیں۔ہم کیسے انکار کر دیں۔ہم کہتے ہیں تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاؤ۔وہ عظیم ہستی جس نے میرے سر سے لے کر پاؤں تک احسان کئے ہیں۔کیا میں اس کے احسانوں کو بھول جاؤں؟ یا آپ بھول جائیں گے۔آپ نے ہم پر اتنے زبر دست احسان کئے کہ آپ کے ایک ایک احسان پر آدمی کئی کئی دن تک گفتگو کر سکتا ہے۔آپ نے انسانی زندگی کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو نظر انداز نہیں فرمایا اور یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بہت کچھ بتاتی ہیں۔نوع انسانی سے آپ کو اتنا پیار تھا اور آپ انسانیت کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ آپ نے یہاں تک بتا دیا کہ مسواک اس طرح کرو۔ڈاکٹروں کو دانتوں کی صفائی کے صحیح طریق کا اب پتہ لگا ہے حالانکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا کہ جب مسواک کرو تو اوپر کے دانتوں کی مسواک اس طرح کرو کہ تمہاری حرکت مسوڑوں سے نچلی طرف ہو اور نچلے دانتوں کی اس طرح کرو کہ نیچے سے اوپر کی طرف ہو تا کہ مسوڑوں کو زخم اور نقصان نہ پہنچے۔اب بتاؤ ہم لوگ جو آپ کے مقام کو سمجھنے والے ہیں اور ہم جو اس کو چہ کے واقف ہیں ،