سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 309

309 سبیل الرشاد جلد دوم وَ أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدا میں نے اس کے پہلے دو 2 Points پر زور دیا اور ضمناً یہ بھی بتا دیا کہ کوئی شخص خدا کے گھر میں بدنیتی سے داخل نہ ہو اور یہ ٹھیک ہے۔عقل بھی یہی فتویٰ دیتی ہے۔تو پتہ ہے اس کا کیا اثر ہوا؟ جمعہ کی نماز شروع ہوئی تو کئی سو عیسائی اور دوسرے غیر مسلم نماز میں شامل ہو گئے لیکن چونکہ اُن کو پتہ نہیں تھا کہ رکوع کس طرح کرنا ہے اس لئے جب ہم رکوع میں گئے تو وہ ایک دوسرے کو اِدھر اُدھر دیکھ کر رکوع میں چلے گئے۔پھر قیام میں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تھے۔پھر سجدے میں گئے۔پھر سجدے سے اٹھے اور پھر سجدے میں گئے۔پھر التحیات میں بیٹھے۔غرض پوری نماز میں ہمارے ساتھ شامل رہے اور یہ اس آیت کریمہ کا اثر تھا۔وَأَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (الجن: 19) اور کتنا عظیم اثر تھا کہ اس کا سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔چنانچہ پچھلے سال یا اس سے پچھلے سال میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ بعد میں بھی لوگ نماز میں شامل ہو جاتے رہے ہیں۔کیونکہ ڈنمارک کا کوئی اخبار ایسا نہیں تھا جس نے اس کے متعلق نہ لکھا ہو سوائے ایک کے جو غالبًا ہفتہ وار ہے۔غیر ممالک کے اخباروں نے بھی لکھا۔اس لئے سارے ملک کو یہ پتہ لگ گیا تھا کہ ہم نے مسجد کے متعلق یہ اعلان کر دیا ہے۔اس واسطے جو لوگ سیر کرنے کے لئے اس علاقے میں آتے ہیں ، وہ اس خوبصورت مسجد کو دیکھنے کے لئے بھی آجاتے ہیں اور اگر اُس وقت نماز کا وقت ہو تو وہ بلا لحاظ مذہب نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس طرح اب تک دس ہزار سے زائد لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمان نہیں بلکہ وہ خدا کو مانتے ہیں۔انہوں نے اس مسجد میں خدا کی عبادت کی۔کیونکہ ہم نے اعلان کیا تھا کہ مسجد کے دروازے ہر موحد پر کھلے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے وہاں جو مسجد بنائی گئی تھی وہ خدا کا گھر ہے۔انسان تو اس کا کسٹوڈین(Custodian) ہے مالک نہیں ہے۔ہمارے منتظمین نے اپنے اندازے کے مطابق اس افتتاح کے بعد تھوڑے سے وقفہ میں یا جمعہ کی نماز کے بعد light refreshment کے طور پر چائے یا کافی کی پیالی ، بوتل اور ایک آدھ چھوٹا سا کیک بھی رکھا ہوا تھا۔ڈنمارک میں ہمارے مبلغ اور دوسرے مقامی احمدیوں کا خیال تھا کہ انہوں نے جو دعوت نامے بھیجے ہیں شاید تین ساڑھے تین سو آدمی آئیں گے لیکن وہاں پہنچ گئے ایک ہزار آدمی۔ہم نے اس موقع پر وہاں خدا کی ایک اور شان دیکھی کہ خدا تعالیٰ اس طرح بھی پیار کرتا ہے۔چنانچہ جب منتظمین گھبرائے ہوئے میرے پاس آ کر کہنے لگے کہ اب کیا ہوگا ؟ میں نے کہا کیا ہو گیا۔کہنے لگے ہم نے اندازہ لگایا تھا تین سوساڑھے تین سو سے زیادہ آدمی نہیں ہو گا اس لئے اس کے مطابق انتظام کیا گیا لیکن