سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 296
سبیل الرشاد جلد دوم 296 ایک دوسرے سے پیار کرنے والی قوم کی حیثیت میں اپنے دین اور دنیا کو سنوار نے میں لگے ہوئے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کر رہے ہوں۔اب ہم کھڑے ہو کر عہد دہرائیں گے اور پھر بیٹھ کر دعا کریں گے۔پھر آپ بیٹھے رہیں گے۔میں آپ کو الوداع کہوں گا اور السلام علیکم کہ کر رخصت ہو جاؤں گا۔الوداعی کلمات : عہد دہرانے اور اجتماعی دعا کرنے کے بعد حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔یہاں بھی ، سفر میں بھی اور جب آپ اپنے گھروں میں پہنچیں وہاں بھی آپ اس کی حفظ وامان میں رہیں۔اللہ تعالیٰ ہر آن اپنی رحمتوں کا سایہ آپ کے سروں پر رکھے اور اپنی برکتیں لانے والے فرشتوں کو آپ کے گرد جمع رکھے اور آپ کو نیک ارادے رکھنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ وہ سب راہیں آپ پر کھولے جو اسے خوش کرنے والی ہیں۔اور پھر ان کو آپ پر ہمیشہ فراخ رکھے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہو۔اب میں رخصت ہوتا ہوں اور آپ کو بھی رخصت کرتا ہوں۔روزنامه الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۷۳ء)