سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 297

سبیل الرشاد جلد دوم 297 سید نا حضرت خلیفہ اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالی کا انتقامی خطاب فرموده ا ارشہادت ۱۳۵۵۶ ہش ۱۱ را پریل ۱۹۷۶ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز بید بوہ سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ نے مورخہا ارشہادت ۱۳۰۵ہش بمطابق اراپریل۱۹۷۶ء کو انصار اللہ مرکزیہ کے نمائندہ اجتماع سے جو خطاب فرمایا تھا، اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج کا ہمارا اجتماع انصار اللہ ، ہنگامی نوعیت کا ہے۔اس لئے کہ اس کو پچھلے سال اکتوبر ۱۹۷۵ء کی ۲۶۔۲۷ - ۲۸ تاریخ کو منعقد ہونا چاہئے تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ سے قبل بتایا تھا کہ حسن ظنی سے کام لیتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید کسی غلط فہمی کی بناء پر اپنے مقررہ وقت پر انصار اللہ کا اجتماع نہ ہو سکا۔اس لئے میں نے یہ ہدایت کی تھی کہ ۲۶ - ۲۷۔۲۸ اکتوبر کی بجائے امسال اپریل میں بھی ایک مختصر سا اجتماع کر لیا جائے تا کہ گزشتہ سال بغیر اجتماع کے نہ رہے۔دین کے کاموں سے محبت کرنے والی فدائی جماعت : میں نے انصار اللہ مرکزیہ کے دفتر کو یہ ہدایت کی تھی کہ اگر ۱/۵ انصار اللہ آ جائیں تو اس سے ہمارے اجتماع کی غرض پوری ہو جائے گی۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دین کے کاموں سے محبت کرنے والی ایک فدائی جماعت عطا کی ہے اس لئے وہ اس میں پیچھے کیسے رہ سکتی تھی۔چنانچہ ۱۹۷۳ء کے اجتماع میں زیادہ سے زیادہ ۵۳۵ مجالس شامل ہوئی تھیں۔اس لحاظ سے جیسا کہ میں نے ہدایت کی تھی اگر کم از کم ۱۰۷ مجالس آجائیں تو اجتماع کی غرض پوری ہو جاتی لیکن اس کی بجائے ۳۸۱ مجالس آگئی ہیں۔الحمد لله على ذالك اسی طرح نمائندگان جو زیادہ سے زیادہ انصار اللہ کے اجتماع میں کبھی شامل ہوئے ، وہ ۹۵۳ تھے۔لیکن اس اجتماع میں ۵۷۲ نمائندے شامل ہوئے ہیں یعنی ۵/ انہیں بلکہ اس کے نصف سے بھی