سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 295
295 سبیل الرشاد جلد دوم کے نتیجہ میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں اور رحمتوں کے طفیل اللہ تعالیٰ کا وہی پیار اور اسی رنگ میں گواتنا شدید اور اتنا عظیم تو نہیں ہو سکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا، ہم میں سے ہر ایک کو حاصل ہو جائے گا۔جس پیار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے پوری شان کے ساتھ حاصل کیا تھا اور آسمانوں پر بلند ترین مقام پر فائز ہوئے تھے۔انصار کو دو دعاؤں کی طرف خصوصی توجہ : پس یہ وہ دو دعائیں ہیں جن کی طرف جماعت کو اور خصوصاً انصار کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔یہ ٹھیک ہے نو جوانوں کو بھی توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نوجوانوں کی عمروں میں برکت ڈالے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اس دنیا کو چھوڑنے سے قبل اس صداقت کو سمجھنے اور اسے پالینے کی تو فیق عطا فرمائے۔اور انہیں بھی خدمات دینیہ بجالانے اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا موقع ملے اور ان کا خاتمہ بالخیر ہو جائے۔اس معنی میں کہ وہ بھی اپنی استعدادوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچا کر گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل اور تصویر بن گئے۔لیکن جوں جوں عمر گزرتی جاتی ہے۔موت کا وقت مقررہ قریب آتا چلا جاتا ہے۔اس لئے جن دوستوں کی عمریں بڑی ہیں۔ان کے غور و فکر کا دائرہ بھی زیادہ وسیع ہونا چاہئے۔ان کی کوششیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی عاجزی کا اظہار بھی زیادہ ہونا چاہئے۔نہایت ہی ابتہال کے ساتھ اور سینہ میں جس طرح ایک آگ لگی ہوتی ہے اس طرح خدا کے حضور جھکنا چاہئے تا کہ جو کچھ وہ ہمیں دینا چاہتا ہے۔وہ ہم اس کی توفیق سے لینے کے قابل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔اللہ تعالیٰ کرے کہ دعاؤں کے نتیجہ میں اور کوشش اور عملی نمونہ کے ساتھ ہم دنیا کے دل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے میں کامیاب ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہمارے بھائی جو مختلف خطہ ہائے ارض پر بسنے والے اور مختلف عقائد رکھنے والے ہیں ان پر تو حید حقیقی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت آشکار ہو جائے اور وہ بشاشت کے ساتھ اور خوشیوں کے ساتھ اور مسرتوں سے اپنی جھولیاں بھر کر دوڑتے ہوئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قُرب کی تلاش میں آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں اور وہ آخری بشارت اور وہ کامل بشارت کہ جس سے بڑی بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دی گئی (یعنی مہدی معہود کے ذریعہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کی ) وہ جلد پوری ہو۔تمام نوع انسان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع نظر آئیں اور نوع انسانی امتِ واحدہ بن جائے۔پھر نہ کوئی جھگڑا باقی رہے اور نہ کوئی اختلاف۔سارے مل کر ایک ہو کر