سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 274
سبیل الرشاد جلد دوم 274 بچیوں کو سمجھا سکتا ہے۔پس خدام کو بھی میں نے کہا ہے کہ ضد کر کے اور مچل کر وہ ماؤں کو سمجھا سکتے ہیں۔اور تم لوگوں بزرگانہ رویہ اختیار کر کے اپنے خاندان کی اپنے سے چھوٹی عورتوں کو سمجھا سکتے ہو۔الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ میں مرد کا ایک فرض یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ عورت کی قوتوں کی صحیح نشو و نما کرے۔میرے نزدیک قوام کی ایک تفسیر یہ بھی ہے۔دیگر قومی کے علاوہ عورت کے روحانی قومی کی صحیح نشو و نما کرنے کی ذمہ داری بھی مرد پر ڈالی گئی ہے۔اور بچوں کے قومی کی کامل نشو ونما کی پوری ذمہ داری ایک خاص عمر تک عورت پر ڈالی گئی ہے۔اور اس طرح بھی اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان مساوات قائم کر دی ہیں ایک طرف مرد کو کہا کہ اس ماحول میں تو ذمہ دار ہے۔ایک طرف عورت کو یہی ذمہ داری ایک دوسرے ماحول میں دے دی۔اپنے اپنے ماحول کے مطالبات اور ضروریات کے لحاظ سے اور طاقتوں کے لحاظ سے اور اثر کے لحاظ سے مساوات کو قائم کر دیا پس انتظامی لحاظ سے انصار اللہ دو صفوں میں بٹ گئے۔صف اول میں ۵۵ سال سے زائد عمر کے انصار ہوں گے اور صف دوم جو چالیس سال سے لے کر 55 تک کی عمر کے انصار ہوں گے۔اور اطفال بھی دو صفوں میں بانٹ دیئے گئے ہیں۔صف اول میں طفل کی عمر سے لے کر بارہ سال کی عمر تک کے بچے ہوں گے۔اور صنف دوم میں وہ اطفال ہیں جن کی عمر تیرہ اور پندرہ سال کے درمیان ہے۔اطفال کی یہ صف دوم۔تین سال کے اندر اندر اپنے وقت پر خدام الاحمدیہ میں داخل ہو جائے گی۔اور خدام کی ایک ہی صف ہے۔انہوں نے محاذ کے اُوپر جا کر اسلام کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینی ہیں۔اپنی عمر کے لحاظ سے اور اپنی تربیت کے لحاظ سے اُن کو ایسا ہونا چاہئے۔اور ایسے ہیں یعنی تربیت کے لحاظ سے اُن کو ایسا ہونا چاہئے اور عمر کے لحاظ سے وہ ایسے ہیں کہ جسمانی لحاظ سے بھی اور دوسرے محاذوں پر بھی وہ انتہائی قربانیاں دے جائیں۔یہ ان کا کام ہے اور انصار کا یہ کام ہے کہ وہ یہ عہد کریں کہ اپنے بچوں کو وہ اپنے سے آگے نکلنے نہیں دیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔( غیر مطبوعہ )