سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 275
سبیل الرشاد جلد دوم 275 سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحم اللہ تعالیٰ کا انتقامی خطاب فرموده ۱۱ار نبوت ۱۳۵۲۶ بهش ۱۱ نومبر ۱۹۷۳ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اا نومبر ۱۹۷۳ء کو انصار اللہ مرکز یہ کے سالانہ سیدنا حضرت اجتماع کا اختتامی خطاب فرمایا اس کا متن ذیل میں درج ہے۔میری آج کی تقریر کا موضوع بڑی ہی اہم دعائیں ہیں جن کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًاO یعنی رسول نے کہا۔اے میرے رب ! میری قوم نے تو اس قرآن عظیم کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ امت محمدیہ پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے یا آچکا ہے جس میں بعض جگہوں پر یا بعض زمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہیں جو اس قرآن عظیم کو مجور بنا دیں گے۔اس قرآن عظیم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیں گے اور اس کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔یہ آیہ کریمہ پڑھ کر طبیعت میں بڑا ہی دُکھ اور پریشانی پیدا ہوتی ہے اور بڑا ہی استغفار کرنا پڑتا ہے اور بڑی ہی دُعا کرنی پڑتی ہے۔اپنے متعلق بھی اور اپنوں کے متعلق بھی اور اسی دعا (یعنی دو دعاؤں میں سے پہلی دُعا ) کی طرف میں اس وقت احباب جماعت کو توجہ کرانا چاہتا ہوں۔دوست دُعا کریں اور بڑی کثرت سے دُعائیں کریں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کو جو غلبہ اسلام کے لئے قائم کی گئی ہے۔جس کی رُوح قرآنِ عظیم ہے ، جس کی زندگی کا انحصار اس عظیم کتاب میں ہے۔جس کی جان ، جس کا دل اور جس کا وجود اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔خدا نہ کرے کہ ہماری اس جماعت میں کوئی ایسا گروہ پیدا ہو یا کوئی ایسا فرد ہی پیدا ہو جو قرآن کریم کو مہجور بنانے والا ہو۔قرآن کریم سے دوری کے نتیجہ میں اسلامی تاریخ نے جو بھیا تک شکلیں ہمارے سامنے پیش کی سورة الفرقان آیت ۳۱