سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 273 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 273

سبیل الرشاد جلد دوم 273 قرآن کریم کی تعلیم کی حکمتیں سیکھیں۔تو پھر تو وہ دُور رہیں گے۔یہ چیزیں ان تک پہنچا نا ہمارا کام ہے۔انصار اللہ کا ایک بڑا کام قرآن کریم کی تعلیم دوسروں تک پہنچانا ہے۔بچوں کو بھی سکھا نا عورتوں کو بھی سکھانا اور دنیا کو بھی سکھانا ان کا کام ہے۔اس کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی ہونی چاہئے۔قرآن کریم ناظرہ ہے۔جس کسی گاؤں میں شیعہ ہے وہابی ہے یا حنفی ہے۔اگر وہ کہتا ہے کہ میں قرآن کریم پڑھنا چاہتا ہوں۔لیکن میرے پاس حمائل نہیں ہے تو تم اُس کا انتظام کرو۔قرآن کریم تو ہمارا سانجھا خزانہ ہے۔اس پر صرف ہماری اجارہ داری تو نہیں۔سارے مسلمان ہیں۔ان تک اُن کو پہنچاؤ۔یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔اور یہ کام تمہارے ذمہ ہے۔اور جیسا کہ میں نے اپنی بہنوں کے اجتماع میں اعلان کیا تھا۔آپ کی ذمہ داری ہے کہ عورتوں کے اندر کمزوری پیدا نہ ہو۔ہماری بچیوں کو حضرت خولہ سے آگے نکلنا چاہئے اس لئے کہ جس محاذ پر تاریخ نے ہمیں خولہ کو جو ہماری ایک پرانی بزرگ بہن ہے اور بزرگ بچی ہے۔یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ہے۔جس محاذ پر اپنے گھوڑے پر سوار دشمن کی صفوں کے کبھی دائیں کنارے پر جا کر قیصر کے سپاہی کو وہ ہلاک کرتی تھی۔اور کبھی بائیں کنارے پر۔یہ فاصلہ تو بڑا تھوڑا تھا۔اور جو خولہ آج پیدا ہونی چاہئے اُس نے کبھی آسٹریلیا کے محاذ پر جا کر روحانی اسلحہ سے اسلام کا حملہ کرنا ہے اور کبھی امریکہ میں اور کبھی روس میں بھی اور کبھی افریقہ کے صحراؤں میں۔اُس کا محاذ بڑا وسیع ہے۔اس لئے اُس کی زیادہ تربیت ہونی چاہئے ورنہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھا سکتی پس اپنی عورتوں کو سنبھالو۔یہ انصار کی ذمہ داری ہے۔الا ماشاء اللہ ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی انصار کی عمر کا فرد موجود ہے۔اکثریت ایسے خاندانوں کی ہے جن کے اندر انصار کی عمر کے بڑے بزرگ موجود ہیں۔ان کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو بہکنے نہ دیں۔ان کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو غافل نہ ہونے دیں ان کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو اس طرف لگائیں کہ وہ قرآنی علوم کو سیکھے۔ان کی ذمہ داری ہے کہ ایک احمدی عورت اس حقیقت کو اس طرح پہچانے جس طرح وہ یہ پہچانتی ہے کہ یہ دن ہے اور سورج چڑھا ہوا ہے۔کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں شیطانی طاقتوں کے ساتھ عبادالرحمان کی آخری جنگ جاری ہے۔اور اس طرح آخری جنگ جاری ہے۔اور اس آخری جنگ کی آخری لڑائی مہدی معہود کی بعثت کے ساتھ شروع ہو چکی۔اور اسلام کے غلبہ کے دن نزدیک ہیں۔اور وہ دن ہم سے بڑی قربانیاں چاہتے ہیں۔ان قربانیوں کے پیش کرنے کے لئے وہ عورت تیار ہو۔یہ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے۔میں نے خدام سے بھی کہا تھا کہ جا کر اپنی ماؤں کو سمجھاؤ۔لیکن بیٹا اپنی ماں کو اس طرح نہیں سمجھا سکتا جس طرح بڑا بھائی اپنی چھوٹی بہن یا خاوندا اپنی بیوی یا بزرگ باپ اپنی