سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 272
سبیل الرشاد جلد دوم 272 ہے۔اُس میں ایک مریضہ پڑی ہے۔اُس کا علاج کرنے والا کوئی نہیں۔ایک گاؤں ہے اُس میں ایک خاندان رات کو بھو کا سویا ہے اُس کو روٹی دینے والا کوئی نہیں۔ہمیں خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم الناس کی تمام ضروریات اپنی طاقت کے مطابق پوری کرنے کی کوشش کریں۔احمدی یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ وہ اس قابل ہے کہ دنیا کی تمام ضروریات پوری کر دے۔لیکن احمدی کو دنیا کے سامنے یہ نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ اپنی طاقت کے مطابق جتنا وہ کر سکتا تھا اُتنا کر دیا۔اور اُس میں اُس نے غفلت اور کوتا ہی نہیں برتی۔ایک غفلت اور کوتا ہی وہ ہے کہ آپ کے علم میں کوئی ضرورت مند ہے اور آپ نے اُس کی ضرورت پوری نہیں کی۔ایک غفلت اور کوتا ہی یہ ہے کہ آپ نے یہ کوشش ہی نہیں کی کہ معلوم کریں کہ ضرورت مند کون ہے۔یہ بھی ایک قسم کی غفلت اور کوتا ہی ہے۔اور اتنا بڑا علاقہ یعنی سارا ملک ہے۔اب سیالکوٹ میں غالباً دو ہزار نو سو سے اوپر گاؤں ہیں۔سرگودھا میں چک بندی ہوئی تھی وہاں ڈیرے گاؤں کے ساتھ ہی منسلک ہیں۔ان کو ہم گاؤں نہیں کہتے۔وہاں گاؤں کی تعداد قریباً ایک ہزار اناسی ہے۔یہ فرق ہے۔یہ تعداد ایک ایک ضلع کی ہے۔لیکن سارے پاکستان میں جتنے گاؤں ہیں ہر گاؤں میں ملاپ کرنا ان سے پیار کرنا۔یہ آپ کا کام ہے۔میں نے سائیکل سواروں سے کہا ہے کہ تم ہمارے منا ظر کی حیثیت سے نہیں جاؤ۔تم اُس احمدی کی حیثیت سے وہاں جاؤ جس نے اپنا اچھا نمونہ دکھانا ہے۔اُن سے ملو۔اُن سے باتیں کرو۔اُن سے کہو کہ ہمارے شہر میں آؤ۔تو اگر تمہیں اس وجہ سے کہ انجان ہو۔شہر کا پتہ نہیں تو ہمارے پاس آ جاؤ۔یہ ہمارا پتہ ہے اور ہم وہاں تمہارا کام کریں گے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔تم وہاں ہمارے مہمان ٹھہر و۔اس قسم کی دعوت اُنہیں دو۔پس جتنی طاقت ہے اتنا تو کرو۔اطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ اس میں جہاں یہ بتایا گیا ہے۔کہ وسعت سے زیادہ خدا تعالی بوجھ نہیں ڈالتا وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جتنی طاقت ہے اگر اُس سے کم بوجھ اُٹھاؤ گے۔تو خدا تعالیٰ کی گرفت میں تم آ جاؤ گے۔سائیکل کے ذریعہ اپنے ماحول میں سے ملاپ ایک بڑی فائدہ مند چیز ہے۔میں بتا رہا ہوں کہ بعض مصلحتیں ہیں جو بتائی نہیں جاتیں۔جب وقت آئے گا تو بتا دیں گے۔ایک مصلحت یہ ہے کہ ہمارا یہ دعوئی ہے اور یہ جو شیطان کے خلاف اس جنگ کی آخری لڑائی لڑی جا رہی ہے۔اُس کا تقاضا یہی ہے۔اگر ہم نے نوع انسانی کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کی جھلکیاں اُن تک پہنچنا چاہئیں۔اور اس کی لذت اُن کو ملنی چاہئے تب وہ آئیں گے ورنہ اُن کو کیا دیپی۔وہ کچھ جانتے ہی نہیں نہ اسلام کا اُن کو پتہ نہ خدا تعالیٰ کا پتہ نہ اس کی صفات کی خبر نہ اسلام کے حسن کا پتہ نہ اُس کے نور کی چمک اُنہوں نے دیکھی۔نہ اُس کے فائدوں سے واقفیت حاصل کی۔نہ