سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 264

264 سبیل الرشاد جلد دوم اطفال الاحمدیہ اور بہنوں لجنہ اماءاللہ کے سامنے پچھلے ہفتہ اُن کے اجتماعات میں کیں۔اس وقت اس پس منظر کے بعد جو میں نے ابھی آپ کو بتایا اور جس کا بتا نا ضروری تھا میں کچھ انتظامی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مہدی معہود کی جماعت نے شیطان کے ساتھ اتنی زبردست لڑائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہو کر لڑنی ہے تو اُس جماعت کا کوئی حصہ کمزور نہیں ہونا چاہئے۔دیکھو! جب دُنیوی جنگیں لڑی جاتی ہیں تو اگر فوج کا میمنہ یا میسرہ یا بالفاظ دیگر فوج کا دایاں باز و یا بایاں باز و کمزور ہو تو بڑا خطرہ ہوتا ہے کہ دشمن اُس کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر گھیرے میں لینے کی کوئی تدبیر کرے۔اور اس طرح بڑا ز بر دست نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔پس اس جنگ میں محاذ جنگ کا کوئی حصہ بھی کمزور نہیں رہنا چاہئے۔اسے یہ جنگ برداشت نہیں کرتی۔نہ ہم اسے برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور اس الہی جماعت میں یہ خلیفہ وقت کا کام ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ کسی حصہ میں کمزوری نہ رہے۔میں نے اپنی بہنوں سے کہا مفلوج عورت جماعت احمدیہ کی اس مہم میں شریک نہیں ہو سکتی۔اور اُس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔یا تو اپنا علاج کرو اور مفلوج نہ رہو۔اور اپنے خاوندوں اور اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بیٹوں کے پہلو بہ پہلو شیطان کے خلاف اس آخری لڑائی میں حصہ لو یا جماعت کو چھوڑ دو اور ہمارے پاس سے چلی جاؤ !! میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ کہانی لمبی ہے مختصر تمہیں سناتا ہوں۔یہ کہانی آدم سے شروع ہوئی تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔یعنی شیطان سے آخری جنگ کی کہانی۔وہ جنگ شروع ہو چکی تم یہ نعرے لگاؤ اور انہوں نے لگائے اور میں بڑا خوش ہوں کہ ہم شیطان سے یہ آخری جنگ لڑیں گے۔اور کامیاب ہوں گے!! پس بچے کا ذہن اگر اس صداقت کو قبول کرلے تو وہ اس کے لئے تیاری بھی کرے گا۔پھر وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ہر تیاری کے لئے تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔پہلی جماعت جو علم کے میدان میں سب سے چھوٹی جماعت ہے اُس میں کامیاب ہونے کے لئے بھی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔اور جو او پر کی جماعتیں ہیں مثلا بی اے یا ایم اے یا ایم ایس سی یا دنیا دار لوگ جو دنیا کی خاطر پی ایچ ڈی کرتے ہیں وہ بے حد محنت کرتے ہیں۔میں آکسفورڈ میں پڑھتا رہا ہوں۔وہاں اچھا پڑھنے والا وہ سمجھا جاتا تھا جو دورانِ سال اوسطاً بارہ تیرہ گھنٹے روزانہ پڑھتا تھا۔اور درمیانہ درجہ میں پڑھنے والا وہ سمجھا جاتا تھا کہ جس کی اوسط روزانہ 9 گھنٹے کے قریب ہوتی تھی۔اور نالائق طالب علم جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ پتہ نہیں یہاں کیا کرنے آ گیا ہے وہ ہوتا تھا جو اوسطاً صرف پانچ چھ گھنٹے روزانہ پڑھتا تھا۔میرا