سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 265

۔265 سبیل الرشاد جلد دوم خیال ہے کہ ہمارے ملک میں الا ما شاء اللہ اچھا طالب علم بھی اوسطاً سات آٹھ گھنٹے سے زیادہ روزانہ نہیں پڑھتا۔لیکن اُن لوگوں نے دنیا میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنا تھا وہ اس بنیادی صداقت کو سمجھ گئے تھے کہ جب کوئی چیز حاصل کرنی ہو تو اس کے لئے تیاری کرنی پڑتی ہے۔اور ہر تیاری محنت طلب اور تکلیف میں ڈالنے والی ہوتی ہے۔اور اُس تکلیف کی برداشت کے بعد انسان کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔پہلے زمانہ میں ہمارے بزرگ بھائیوں نے تلوار کے ساتھ اسلام کی جو جنگیں لڑیں اس لئے کہ تلوار نیام میں سے مسلمانوں کی گردنیں اڑانے کے لئے نکلی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اُسی تلوار کے ساتھ کفار کی گردنیں اڑا دیں۔اُس زمانہ کے حالات تھے۔اللہ تعالیٰ کی مصلحت یہی تھی۔نکھد تلوار ، ٹوٹی پھوٹی تلوار جس کا لوہا بھی درست نہیں تھا۔غریب لوگ Under nourished ، جن کو کھانے کے لئے بھی پوری طرح نہیں ملتا تھا۔اُن کے جسم بھی اُتنے مضبوط نہیں تھے جتنے کہ مقابلہ کے قیصر وکسریٰ کے پہلوانوں کے جسم تھے۔اور حالت یہ تھی کہ خلافتِ اولی کے زمانہ میں کسری یا قیصر کے ساتھ جو جنگیں ہوئی تھیں تو تعداد میں اسلامی فوج اور کسری یا قیصر کی فوج میں اتنا فرق تھا کہ کسری یا قیصر کی افواج کے سپہ سالار ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد لڑ نے والی فوج کو پیچھے ہٹا لیتے تھے اور ایک تازہ دم فوج اگلی صف میں بھیجتے تھے۔مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ ایک ہی صف آگے تھی۔اس لئے پیچھے ہٹانے یا تازہ دم صف آگے بھیجنے کا سوال نہیں تھا۔ایک سپاہی صبح تلوار چلانی شروع کرتا تھا اور جب تک شام کے اندھیرے یا شام کا جھٹپٹا پھر تلوار کو نیام میں نہیں لے جاتا تھا۔اُس وقت تک وہ تلوار چلاتا تھا۔آپ کوئی سوئی لے کر کسی جھاڑی کے اوپر مارنا شروع کریں۔پانچ منٹ کے بعد آپ کے بازو شل ہو جائیں گے۔انہوں نے ہاں انہی غریب اور کمزور جسموں اور ناقص ہتھیار والوں نے کہیں تو مشقت کی۔دعائیں کیں۔دعا بھی ایک تدبیر ہے۔تلوار چلانے کی تربیت حاصل کی۔اُن کو معلوم تھا کہ دشمن ہمارے مقابلہ میں ایک گھنٹہ بعد تازہ دم فوج لے آئے گا۔لیکن ہمارے پاس اتنی تعداد نہیں کہ ہماری اگلی صف پیچھے چلی جائے اور پچھلی آگے آ جائے۔اس کے لئے اُنہوں نے تیاری کی کتنی تیاری اُنہوں نے کی ہوگی۔اُن کے بچوں کو دیکھو! یہاں تک میں نے تاریخ میں خود پڑھا ہے کہ بھائی بھائی کے سر پر سیب رکھ کر تیر کے ساتھ اُس سیب کو اُڑا دیتا تھا۔اور اُسے پتہ تھا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔میرا نشانہ اتنا عمدہ ہے کہ خطا نہیں جائے گا۔چھوٹے بچوں نے یہاں تک تربیت حاصل کرنے کی طرف توجہ دی۔میں اس سے کوئی اور استدلال نہیں کر رہا صرف یہی استدلال کرنا چاہتا ہوں کہ تربیت کے حصول میں اُنہیں اتنا شغف تھا کہ وہ اُس عمر میں میدانِ جنگ میں