سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 263

263 سبیل الرشاد جلد دوم بہر حال وہ حملہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فاتح اعظم ہونے کی حیثیت میں اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں مہدی معہود کے ذریعہ پسپا ہو گیا۔لیکن ہمارا کام یہاں ختم نہیں ہوا۔جماعت احمدیہ کا قیام صرف دفاع کرنے کے لئے نہیں تھا۔جماعت احمدیہ کا قیام اُس زمانہ میں ہوا جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ مہدی کے ذریعہ شیطان کو آخری شکست دینے کے بعد نوع انسانی کو وحدت اقوامی میں ملت واحدہ بنا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے گا۔حملہ آور تو پسپا ہو چکا لیکن اب ہماری روحانی اسلحہ کے ساتھ جارحانہ یلغار شروع ہو چکی ہے۔اور اُس وقت تک اس میں نہ کمی آئے گی نہ کمی آنے دینی چاہئے جب تک یہ بشارت پوری نہ ہو جائے کہ ساری دنیا اسلام کی آغوش میں آ جائے۔اور ساری دنیا، مشرق و مغرب میں بسنے والے اور شمال اور جنوب میں رہنے والے بھی ، سفید فام بھی اور گندمی رنگ والے بھی اور زرد رنگت والے بھی اور مور کی طرح خوبصورت رنگ والے افریقین بھی تمام کے تمام بلا امتیاز رنگ و نسل و ملک و ملت خدائے واحد ویگانہ کی پرستش کرنے لگیں۔اور دُنیا سے شرک گئی طور پر مٹا دیا جائے۔اور دہریت کا خاتمہ ہو جائے اور مختلف ISMS ، نظریات جو آج کل اِدھر اُدھر سر نکالتے رہتے ہیں وہ سارے کے سارے نیست و نابود ہو جائیں ، اور صداقت پورے طور پر نوع انسانی پر قابض ہو جائے۔اور اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کا نور اور سراج منیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نوع انسانی کو اپنی نورانی چادر میں اس طرح لپیٹ لے کہ ظلمت کا کوئی اندھیرا پہلو اُس کے اندر داخل نہ ہو سکے۔پس ہمارا کام شروع ہے اور آخری کامیابی تک چلتا چلا جائے گا۔اتنا عظیم کام ہم اُسی صورت میں ظاہری حالات میں سر انجام دے سکتے ہیں۔جب اس کے لئے انتہائی کوشش کریں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے۔لیکن ہمارے اُوپر ذمہ داریاں ہیں اور تد بیر کرنے کا کام ہمارے سُپر د ہے۔آسمانوں سے فرشتوں کے نزول کے ساتھ تائیدات اور نصر تیں بھیجنے کا کام اللہ تعالیٰ کا ہے۔لیکن قربانیاں دینا اور دین کی راہ میں تکالیف برداشت کرنا دین کی راہ میں اپنے اموال اور اوقات اور توجہ کو وقف کر دینا اپنے علم کے ہر روشن پہلو کو دین کی خاطر وقف کر دینا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔اور جو ہماری ذمہ داری ہے۔وہ ہم نے نبھانی ہے۔اور یہ کام اُس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک کہ اس لڑائی میں آخری مورچہ فتح نہیں کر لیا جاتا۔اور اس کے بعد مسیح اور مہدی کے متعلق یہ جو بتایا گیا تھا کہ وہ جنگیں ختم کر دے گا تو اُس کی ایک شرح یہ ہے کہ جب بیرونی محاذ پر دشمن کا خاتمہ ہو جائے گا تو جنگ ختم ہو جائے گی۔کیونکہ دشمن ختم ہو گیا تو جنگ ختم ہو گئی۔اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام غالب آچکا ہو گا۔پھر بیرونی محاذ پر کوئی جنگ نہیں ہو گی۔بہر حال یہ اُن باتوں کا خلاصہ ہے جو میں نے اپنے بچوں