سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 262
سبیل الرشاد جلد دوم 262 ہوئے ایک فوج تیار کی جو دشمنانِ اسلام کی اس زبر دست یلغار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوگئی اور دشمن کے وار اُس نے اپنے سینے پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ حملہ پسپا ہو چکا ہے۔وہی لوگ جو ۱۸۵۰ء سے لے کر ۱۸۸۰ء کے زمانہ میں یہ کہتے تھے اور اعلان کرتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے وہی حملہ آور لوگ یہ ماننے پر مجبور ہوئے کہ افریقہ میں اگر وہ ایک عیسائی بناتے ہیں تو اُن کے مقابلہ میں جماعت احمد یہ نو افراد کو اسلام میں داخل کرتی ہے وہی لوگ اس ملک ہند سے جہاں ایک مسلمان کو بھی دیکھنا اور برداشت کرنا نہیں چاہتے تھے وہاں وہ ناکام ہوئے۔یہ واقعہ قسیم ہند سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ہندوستان اور پاکستان میں یہ نظر آ رہا ہے کہ وہ لوگ نا کام ہوئے۔اور اُن کے ارادے خاک میں مل گئے۔اُن کی پسپائی کے بعد ایک وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو للکارا۔اور فرمایا کہاں ہیں وہ پادری جو چوراہوں پر کھڑے ہو کر یہ للکارتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔اور آج اُنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے ایک غلام کے ذریعہ اتنے معجزات دیکھے کہ اُس کے مقابلہ میں آنے کے لئے وہ تیار نہیں۔اور اُن کی زبانیں گنگ ہوگئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتایا کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسی قوم تیار کر رہا ہے کہ یہ قوم جو اسلام کو دُنیا سے مٹانے کے در پے تھی اُس قوم کے بچوں سے بھی بات کرتے ہوئے گھبرائے گی۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ افریقہ میں ہمارا ایک دس سال کا بچہ ایک اتوار کے روز ہاتھ میں کچھ رسالے لئے کھڑا تھا۔اور جو کوئی اُس کے پاس سے گزرتا اور وہ ذہین بچہ اُس کے متعلق سمجھتا تھا کہ یہ پڑھ سکتا ہے تو وہ اُس کے ہاتھ میں کوئی رسالہ یا کوئی پمفلٹ یا دو ورقہ یا کوئی کتاب دے دیتا تھا۔اُس بچے کے اندازے کے مطابق ایک پڑھا لکھا بڑے اچھے لباس میں ملبوس بظا ہر کھا تا پیتا ادھیڑ عمر کا ایک شخص اُس کے پاس سے گزرا اُس بچے نے ایک رسالہ اُس شخص کو دیا۔چلتے چلتے اُس شخص نے رسالہ پر سرسری نگاہ ڈالی۔اور دس پندرہ قدم چلنے کے بعد واپس لوٹا۔اور اُس بچہ سے کہنے لگا کہ تمہیں معلوم نہیں میں کیتھولک عیسائی ہوں اور ہمیں یہ ہدایت ہے کہ نہ کسی احمدی سے کوئی کتاب لینی ہے اور نہ اُس کی بات سننی ہے۔پس وہ لوگ جو دنیا سے اسلام کو مٹانا چاہتے تھے وہ اپنی پہلی یلغار میں پسپا ہوئے۔اب وہ یہ دعوی نہیں کر سکتے۔بعض چھوٹے چھوٹے علاقوں کے متعلق بعض دفعہ وہ یہ مہم سی بات کرتے ہیں کہ جی کچھ کہ نہیں سکتے کہ عیسائیت کے پاس یہ علاقہ جائے گا یا اسلام کے پاس جائے گا۔لیکن اس قسم کے فقرے بذات خود اعتراف شکست کے مترادف ہیں۔