سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 246 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 246

246 سبیل الرشاد جلد دوم وہ اپنی بریت کا اعلان کر دیتا ہے۔کہتا ہے میں نے تو تمہیں ایک بات کہی تھی تم نے کیوں مانی تھی۔میں نے تمہارے ساتھ فریب کیا تھا تم میرے فریب میں کیوں آگئے۔آج میرے اوپر کیا الزام دیتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی تمہیں قوت عطا کی تھی تم نے کیوں استعمال نہ کی۔وہ بالکل بُری ہو جاتا ہے۔اور منافق کے لئے جہنم کا دروازہ کھول دیتا ہے۔شیطان پرے ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔گو اُس نے بھی جہنم میں جانا ہے۔لیکن وہ منافق کو تو یہی کہتا ہے کہ میں تجھے جہنم میں نہیں لے کر آیا۔تیری بد بختی تھی کہ تو میرا دوست بن گیا اور میں کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں میری تیری کوئی دوستی نہیں۔جہنم میرے لئے بھی ہے لیکن میں تو تیرے ساتھ جہنم میں رہنا بھی پسند نہیں کرتا۔شیطان لعین میں معلوم ہوتا ہے اتنی غیرت ضرور ہے کہ وہ جن کو دھوکا دیتا ہے اور جو اس کے دھوکے میں آ جاتے ہیں۔اپنی دوستی کا ہر وقت انکار کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔لیکن بعض انسانوں میں بدقسمتی سے بعض دفعہ اتنی غیرت بھی نہیں ہوتی۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیسری چیز جو تم منافق میں دیکھو گے وہ یہ ہے کہ وہ شیطان کا دوست بن جائے گا اور ورلی زندگی کی عارضی خواہشات اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیں گی اور جو ضروری باتیں اور بنیادی صداقتیں ہیں ان کی طرف سے ان کی توجہ ہٹ جائے گی۔اور خدا کی بجائے شیطان کی طرف اس کا رخ ہو جائے گا۔اور ٹور کی بجائے اندھیروں کی طرف وہ اپنے مکان کی کھڑکیاں کھول دے گا۔اور ظلمات سے اس کا مکان بھر جائے گا۔نور کی کوئی کرن وہاں داخل نہیں ہوگی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس کا ٹھکانا فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ بنادے گا یعنی جہنم میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ مقام ہے وہ ایک منافق کا ٹھکانا بن جائے گا۔غرض سورہ تو بہ کی ان آیات میں منافقوں کے متعلق اور بھی کئی باتیں بڑی تفصیل سے بیان ہوئی ہیں میں نے اس وقت صرف تین بنیادی باتوں کو لیا ہے۔ان کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مضمون بیان فرمایا ہے۔اس طرح لگتا ہے کہ گویا سننے والوں، ایمان لانے والوں، پڑھنے والوں اور قرآن کریم پر غور و فکر کرنے والوں کا زبر دستی پکڑ کر منہ دوسری طرف پھیر دیا گیا ہو۔ایک نیا مضمون کھل کر ہمارے سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر میں فرماتا ہے: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمُ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُه سورہ النساء : ۱۴۶ سوره التوبه : ۱۲۸