سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 245
سبیل الرشاد جلد دوم 245 ہے۔اِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ جہاد میں جانے کا موقع پیدا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں اجازت دے دیں۔ہم آپ کے ساتھ جہاد کے لئے باہر نہ نکلیں۔یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کا ایمان پختہ نہیں ہوتا۔اور جو یوم آخرت کو یقین کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جس کے نتیجہ میں ارتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ اس وجہ سے وہ اس مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک منافق کی تیسری صفت یہ بتائی ہے غَرَّتْكُمُ الْاَمَانُ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللهِ الْغَرُورُ شیطان ایک منافق کے دل میں دنیا اور اس کے سامانوں کی محبت اور پیار پیدا کر دیتا ہے۔جھوٹی طمع پیدا کر کے اس کو دھوکا دیتا ہے اور ایک پکا مسلمان جو اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کا عرفان رکھتا ہے وہ شیطان کو کہتا ہے کہ جاؤ ہم تمہارے فریب میں نہیں آ سکتے۔لیکن منافق اس کے فریب میں آ جاتا ہے اور دنیا اور دنیا کے اموال اور دنیا کی زمینیں اور دنیا کی وجاہتیں اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ایک جھوٹی طمع ہے جو ا سے دلائی جاتی ہے اور ایک جھوٹی طمع ہے جسے منافق قبول کر لیتا ہے اور خدا کا دوست بننے کی بجائے وہ شیطان کا دوست بن جاتا ہے۔یہ حیاتِ دنیا سے دلچسپی اور پیار اور دنیا کی نعمتوں پر فریفتہ ہونے کی جو صفت ہے یہ منافق میں پائی جاتی ہے اور یہ مومن میں نہیں پائی جاتی اور اس کے نتیجہ میں ایک منافق اپنی عملی زندگی میں مذہب اسلام کو ایک مشغلہ اور کھیل بنا لیتا ہے۔وہ اسے ایک بنیادی حقیقی اور ابدی صداقت نہیں سمجھتا اور نہ اسے اسلام کی اس بنیادی صداقت کو سمجھنے کے نتیجہ میں ایک مسلمان پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کا احساس ہی ہوتا ہے۔اس لئے وہ دنیا دارانہ خیالات میں بہہ جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام میں فرمایا وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَ لَهُوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيوةُ الدُّنْيَا ) یعنی ورلی زندگی نے ان کو دھوکا میں ڈالا ہوا ہے۔اے رسول تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے یعنی تو ان کی فکر نہ کر ہم ان کے شر سے محفوظ رہنے کے سامان پیدا کر دیں گے۔پس یہ تیسری بنیادی حقیقت ہے کہ خواہشات ردّیہ جن کا تعلق دُنیا کی چھوٹی چھوٹی اور عارضی لذتوں سے ہے ایک منافق ان کا شکار ہو جاتا اور اس طرح وہ ابدی سرور اور لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔شیطان اسے دھوکا دیتا اور یہ شیطان کے دھوکے میں آ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دوست بننے کی بجائے وہ شیطان کا دوست بن جاتا ہے۔شیطان تو ہے ہی دھوکا دینے والا۔اس کا تو دوسرا نام ہی غُرُور ہے۔یعنی دھوکا دینے والی ہستی۔وہ پہلے دھوکا دیتا ہے اور پھر قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آتا ہے کہ سورہ انعام آیت اے