سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 247

سبیل الرشاد جلد دوم 247 اللہ تعالیٰ منافقین سے فرماتا ہے کہ دیکھو کہ تم شیطان کے دوست بن جاتے ہو حالانکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو تمہاری نجات کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں ان میں یہ صفات پائی جاتی ہیں اور پھر خلی طور پر، کیونکہ قرآن کریم تو قیامت تک ہے اس کی کوئی آیت کسی زمانہ میں بھی منسوخ نہیں ہو سکتی۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بس یہاں تک اس کا دائرہ عمل تھا اور اس کے آگے قابل عمل نہیں۔اس کا دائرہ عمل قیامت تک ممتد ہے۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات حسنہ ہیں وہ آپ کے پیاروں اور آپ سے انتہائی پیار کرنے والوں اور آپ کے تابعین میں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ منافقین کی ان تین علامتوں کے بتانے کے بعد جو شیطان ان میں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں انہی کے ساتھ تعلق رکھنے والی تین صفتیں پائی جاتی ہیں اور وہ زیادہ اچھی ہیں۔ایک یہ کہ تَرَبَّصْتُم یعنی قرآن عظیم کے قوانین، احکام اور اوامر و نواہی کی قیود اور پابندیوں کو قبول کرنے میں ایک ہچکچاہٹ کا پیدا ہونا ( یہ تو تَرَبَّصُتُم کی رُو سے منافق کی علامت بتائی گئی تھی ) تو شیطان کہتا ہے کہ تو کیوں اتنی قیود اور اتنی پابندیوں اور اتنے احکام کے نیچے اپنی گردن رکھتا ہے۔اس طرح تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ دیکھو تمہاری طرف ایک ایسا رسول آیا ہے۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ کہ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس کو شاق گزرتا ہے یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ہے کہ آپ کسی کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ہر کسی کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے حتی المقدور کوشاں رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے گروہ منافقین شیطان تمہیں یہ کہتا ہے کہ اگر تم اسلامی احکام کی پابندی کرو گے تو تکلیف میں پڑ جاؤ گے کیونکہ اتنی قیود ہیں اور اتنی پابندیاں ہیں کہ ان کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔مگر کیا تم یہ دیکھتے نہیں کہ جس نبی پر ، جس رسول پر جس خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کلام ، یہ شریعت اور یہ ہدایت نازل ہو رہی ہے۔اس کی فطرت کتنی اچھی ہے کہ تمہارا تکلیف میں پڑ جانا اس پر شاق گزرتا ہے۔اگر یہ احکام تمہیں تکلیف میں ڈالنے والے ہوتے تو وہ ان کو کبھی تمہارے سامنے پیش نہ کرتا۔پھر تو یہ ایک کھلا تضاد ہوتا کہ قرآن کریم کچھ کہتا ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور کہہ رہے ہیں اسی لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو دیکھنا ہو تو قرآن کریم کو دیکھ لو۔آپ کا جو اسوۂ حسنہ قرآن کریم کے الفاظ میں بیان ہوا ہے آپ کی عملی زندگی اسی کی تصویر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم کے احکام تمہیں تنگی میں ڈالنے والے نہیں بلکہ تمہارے لئے میسر اور فراخی کے سامان پیدا کرنے کے لئے ہیں تمہیں دھوکا دینے کے لئے نہیں تمہارے سامنے اس حکیم کتاب نے ہر چیز کھول کر بیان کر دی ہے۔اپنی عقلوں سے کام لوتو