سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 244 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 244

سبیل الرشاد جلد دوم 244 اس لئے وہ قربانی دیتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے غصہ سے بچنے کے لئے قربانی دیتا ہے اور وہ قربانی پر قربانی دیتا ہے اس کے پیار اور اس کی رضا کے پانے کے لئے۔لیکن منافق شک میں پڑا رہتا ہے۔اسے اس بات کا یقین ہی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں جنت ملے گی۔تاہم کبھی کوئی نشان دیکھ لیتا ہے تو سمجھتا ہے شاید یہ صیح ہے۔پھر جب اس سے قربانی کا مطالبہ ہوتا ہے تو کہتا ہے شاید غلط ہے میں اپنے پیسے کیوں ضائع کروں، ہمیں اپنے جسم کو کیوں تکلیف میں ڈالوں۔کیوں میں اپنی بیوی اور بچوں کی مفارقت برداشت کروں۔میں کیوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پروانہ وار چکر لگاؤں؟ غرض یہی شک ہے جو منافق کو قربانیاں دینے اور ایثار دکھانے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں فدا ہو جانے اور خدا کے لئے ایک موت کو قبول کر کے ایک نئی اور پیاری زندگی پانے میں روک بنتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَار تَبتُم قیامت کے دن ان کو کہا جائے گا۔کہ تم اس بات میں شک میں پڑے ہوئے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی بھی ہے، مرنے کے بعد کسی جنت کے ملنے کا امکان بھی ہے، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے سامان بھی پیدا کئے گئے ہیں۔اور اس کے نتیجہ میں تم نے قربانیاں نہیں دیں۔تم نے وہ مطالبات پورے نہیں کئے جو تم سے تمہارے پیدا کرنے والے رب نے کئے تھے۔مگر آج تم یہ کہتے ہو کہ ہمارا وہ رب جس پر تمہیں ایمان ہی نہیں تھا تم سے وہ وعدے پورے کر دے جو اس نے مخلصین مومنین کے ساتھ کئے تھے۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔وعدہ تو مخلص کے ساتھ ہے۔وعدہ تو یقین کامل پر قائم ہو کر خدا کی راہ میں قربانیاں دینے والے کے لئے ہے۔تمہیں اس کی توفیق نہیں ملی تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لئے جہنم کے دروازوں کی چابیاں بنائیں اور ان چابیوں کو لے کر آج تم میدان حشر میں اکٹھے ہو گئے ہو۔اب اس چابی سے جو تم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے صرف جہنم کا قفل کھول سکتے ہو۔اس سے جنت کا قفل نہیں کھل سکتا۔اس کے لئے اور چابی درکار ہے۔آج تم کو جنت کیسے مل جائے گی۔آج تمہیں جہنم سے دور کیسے رکھا جا سکتا ہے۔پس قرآن کریم نے منافق کی دوسری صفت یہ بتائی ہے کہ وہ یقین کامل پر قائم نہیں ہوتا۔اس میں آگے ایک چھوٹا سا فرق ہے لیکن اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا۔ورنہ دیر ہو جائے گی۔قرآن کریم نے کمزور ایمان والے اور منافق میں بھی فرق کیا ہے۔بہر حال جو منافق ہے وہ شکوک و شبہات میں مبتلا رہتا ہے اور وہ یقین سے دور ہوتا ہے اسی لئے وہ قربانی نہیں دیتا۔یہ ایک پکی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ہماری عقل اسے تسلیم کرتی ہے کہ جب تک کسی بات پر یقین نہ ہو۔اس وقت تک اس کے لئے صحیح معنوں میں اور پورے طور پر قربانی نہیں دی جا سکتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا