سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 219
219 سبیل الرشاد جلد دوم سے یہ دنیوی جنت بھی ایسی ہے کہ اس میں وقت کے ضیاع کی اجازت نہیں ہے۔امت محمد یہ جو اپنے مقام کو پہچانتی ہے یا امت محمدیہ کے وہ حصے جو اپنے مقام کو پہچانتے ہیں۔وہ کامیابی کے بعد لغو باتوں کی طرف نہیں جاتے۔اس واسطے کہ انگلی اور ایک نئی اور بڑی کامیابی کا وعدہ ہے اور اس کے لئے بھی انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہے۔متواتر جد و جہد اور الہی رحمتیں ہے۔اگر چہ میرا مضمون اس وقت روحانیت اور روحانی ترقیات اور روحانی رفعتوں کے متعلق۔لیکن میں وہی میٹرک کے امتحان کی مثال دے کر بات واضح کرتا ہوں۔جس لڑکے نے دسویں کے امتحان میں فرسٹ پوزیشن لی ہے اور امید رکھتا ہے کہ وہ ایف اے کے امتحان میں بھی بورڈ میں اول نمبر پر آئے گا تو وہ پہلے سے تیاری کرنی شروع کر دیتا ہے۔کیونکہ اس کے لئے انتہائی کوشش کی ضرورت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بیچ میں قریباً دو سال کا فاصلہ ہے اس کا ایک منٹ بھی ضائع نہ ہو۔مگر ایف اے کی کامیابی اس کامیابی کے مقابلے میں بالکل بیچ ہے۔جو اللہ تعالیٰ روحانی میدانوں میں ایک کے بعد دوسری کامیابی دیتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالسَّمَاء ذَاتِ الرَّجْعِ یعنی اللہ تعالیٰ انسان پر بار با رفضل کرتا ہے اور دو فضلوں کے درمیان انسان کی اپنی کوشش ہے۔ایک فضل ہوتا ہے۔اس پر وہ تسلی پاتا ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس پر ٹھہر نا نہیں۔اے میرے بندے! تو نے میرا پیارلیا۔لیکن اس سے بڑا پیار میں تجھے دینے کے لئے تیار ہوں۔تو اس کے لئے کوشش کر۔غرض ایک ہی وقت میں پہلی کامیابی پر اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے دیکھنے کے بعد روح سرور بھی حاصل کر رہی ہے اور دماغ اور جسم اور روح نئی کوشش میں بھی لگ گئی ہے۔پس سرور اور جد وجہد متوازی چلنے شروع ہو گئے اور یہ شروع سے اسی طرح چل رہے ہیں۔اس لئے وقت کو ضائع کرنے کی اجازت ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَا غِيَةٌ - اب آپ یہاں سے جائیں گے، ستانے کے لئے آپ کو کوئی وقت نہیں۔اگلی کامیابی کے لئے آپ کوشش کریں تا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر مزید رحمتیں نازل فرمائے۔اس طرح ایک غیر متناہی سلسلہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا شروع ہو جاتا ہے۔اُخروی جنت اور ترقیات جب انسان خدا تعالیٰ پر حقیقی ایمان لاتا ہے تو اُسے اُخروی جنت بھی ملتی ہے اور وہاں بھی اگر چہ وہ عمل کی دنیا نہیں ہے۔مگر جس طرح گلاب کا پھول جب پورا بن جاتا ہے تو اس کے بعد گلاب کے