سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 220
220 سبیل الرشاد جلد دوم پھول کے بننے کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔لیکن پتیوں کے کھلنے کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔گلاب کی تو محدود پیتیاں ہیں۔لیکن انسان جب دوسری زندگی میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نئی زندگی حاصل کرتا ہے تو اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ وہ ایک گلاب کا پھول ہے جو نہایت خوب صورت اور خوشبو دار اور حسین رنگوں کا مجموعہ ہے اور جس کی پتیاں غیر محدود ہیں اور جب کھلتی ہیں تو اس کے حسن میں خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت کا جلوہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔پس میرے اور آپ کے لئے کسی ایک مقام پر ٹھہرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ہم تو ایک راستے پر چل پڑے ہیں کہ ٹھہرے تو مارے گئے۔کون ہے ہم میں سے جو زبانی یہ کہنے کے لئے تیار ہو کہ کچھ گھنٹے ہماری زندگی میں ایسے بھی ہونے چاہئیں جن میں اللہ تعالیٰ اور ہمارے درمیان دوری پیدا ہو جائے۔جب آپ کا دماغ اس تصور کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ کا عمل اس بات کو قبول کرنے کے لئے کیسے تیار ہو جائے گا۔پس یہ تسلسل جو ایک طرف انسانی کوشش اور محنت میں ہمیں نظر آ رہا ہے۔اس تسلسل کو قائم رکھنا چاہئے تا کہ دوسری طرف وہ تسلسل جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے اور جسے ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے جن میں سے ہر جلوہ پہلے سے بڑھ کر ہوتا ہے ، وہ تسلسل قائم رہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں عہد اور دعا کرانے کے بعد آپ کو رخصت کروں گا۔سفر اور حضر میں آپ جہاں بھی ہوں اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کے جسموں میں اور آپ کے عمروں میں برکت ڈالے اور آپ کی محنت میں برکت ڈالے اور آپ کے مال میں برکت ڈالے اور آپ کی اولاد میں برکت دے۔آپ کی اولا د کو آپ کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور بنائے۔پاکستان کی حفاظت وسالمیت کے لئے مساعی پاکستان کی حفاظت اور سالمیت کے لئے آج قوم ایک عظیم جد و جہد کر رہی ہے۔اس جد و جہد میں شامل کرنے کے لئے میں آپ کو واپس آپ کے گھروں میں بھجوار ہا ہوں۔خدا کرے کہ آئندہ سال میں آپ کو کامیاب و کامران واپس آنے پر آپ کا استقبال کروں اور آپ کو سینے سے لگاؤں۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمتیں ، اس کی مدد اور اس کی نصرتیں ہر وقت اور ہر آن آپ کے شامل حال رہیں۔روزنامه الفضل ۱۵-۱۶ - ۱۸-۱۹ / فروری ۱۹۷۲ء )