سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 210

210 سبیل الرشاد جلد دوم مناسب نہیں ہے۔مگر وہاں کی لوکل جماعت کے ذہن میں خود ہی یہ آ گیا اور انہوں نے بڑا اچھا کیا کہ شروع میں لڑکے اور لڑکیوں کو اکٹھا داخل کر دیا کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ نویں جماعت میں لڑکیاں اور لڑکے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کے لئے الگ الگ سکول کی ضرورت نہیں۔دسویں میں ہم دو کالج بنا دیں گے۔لڑکیوں کو ادھر لے جائیں گے (سیکنڈ ایئر میں ) اور لڑکے یہاں رہ جائیں گے اور اس طرح چارسکول ہو جائیں گے۔پس جنوری ۷۲ء میں نائیجریا میں چار سکول ہو جائیں گے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ فضل کر رہا ہے اور ان ممالک ہی میں آمد کے ذرائع پیدا کر رہا ہے۔اب ان کو خرچ کے لئے رقم کی ضرورت تھی۔یہاں سے تو ہم بھی نہیں سکتے۔کیونکہ ملک میں فارن ایکسچینج کی وقت ہے۔اس لئے ہم یہاں سے کوئی پیسہ با ہر نہیں بھیج سکتے اور نہ بھیج رہے ہیں۔ایک اعتراض اور اس کا جواب : بعض لوگ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ ضرور کوئی شرارت کرتے ہوں گے، یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں ہماری جماعتیں ہیں۔بعض دیگر ممالک میں بھی دقتیں ہیں جہاں سے ہم پیسے باہر نہیں بھیج سکتے۔لیکن ہم انگلستان سے بھیج سکتے ہیں۔جرمنی سے بھیج سکتے ہیں۔سوئٹزر لینڈ سے بھیج سکتے ہیں، امریکہ سے بھیج سکتے ہیں۔امریکہ نے ۲۳ / ہزار ڈالر کے وعدے کئے اور غالباً ۱۰ ۱۲ ہزار ڈالر اس وقت تک وہ جمع بھی کر چکے ہیں۔میں نے سہولت کی خاطر امریکہ اور Continent کے جو پیسے ہیں یہ سوئٹزرلینڈ میں جمع کرا دیئے ہیں۔غرض بیرون پاکستان کی جو ہماری احمدی جماعتیں ہیں وہ ان کو پیسے بھیجتی ہیں۔البتہ ہم یہاں سے جو آدمی بھیجتے ہیں ان کا کرایہ دیتے ہیں اور یہاں سے جتنی کتا ہیں قانو نا ساتھ جا سکتی ہیں وہ ساتھ بھجواتے ہیں یا بعض دوسرا سامان بھی ہے مگر ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ فضل کرے اور یہاں ہمارا پریس لگ جائے تو ہمارا دل کرتا ہے کہ ہمارے پاس جتنے پیسے ہیں یعنی پاکستان کی جماعت کا کل چندہ ساڑھے ستائیس لاکھ ہے۔اس میں سے دولاکھ رکھ کر چھپیں لاکھ کی حکومت سے اجازت لے کر ایک سال کے اندراندر قرآن کریم شائع کر کے ساری دنیا میں پھیلا دیں۔( غیر مطبوعہ )