سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 211
سبیل الرشاد جلد دوم 211 سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحم اللہ تعالی کا انتقامی خطاب فرموده ۷ اراخاء۱۳۵۰ہش ۱۷ راکتو برا۱۹۷ء بمقام احاطہ دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سیدنا حضرت نضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۱۷ را خاء۱۳۵۰ ہش ( مطابق ۱۷ار اکتوبر ۱۹۷۱ء) کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے جو اختتامی خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیات پڑھیں۔في صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ بِأَيْدِى سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍة اور پھر فرمایا: ہم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے اپنے فضل سے موجودہ کشمکش کے حالات میں بھی ہمیں یہاں بخیریت جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور نیکی کی باتیں سننے اور دلوں میں یہ عہد کرنے کی توفیق دی کہ ہم ان باتوں پر عمل کریں گے۔انصار اللہ اور اشاعت قرآن کریم انصار اللہ کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کو عام کریں۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کی بڑی شان ہے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی بڑی عزت ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم کامل کے چشمے سے نکلا ہے اور اسی کی طرف اس کے تمام نتائج رجوع کرتے ہیں۔پس قرآن کریم بڑی بلندشان والا ہے۔یہ پاکیزگی کے چشمے سے نکلا ہے اور انسان کے لئے پاکیزگی کا چشمہ بننے والا ہے یہ ایک کامل اور مکمل اور حسین اور خوبصورت اور پاک اور مطہر شریعت ہے سوره عبس : ۱۴ تا ۱۷