سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 206

206 سبیل الرشاد جلد دوم ہے۔ہم نے سوچا کہ اگر ہم اتنا بڑا پروگرام طے کرتے تو با وجود ساری دنیا کی دولت ہمارے پاس ہونے کے ہم اس کو تھیں سال میں مکمل کر سکتے تھے۔مگر ابھی تو ایک سال نہیں گزرا کہ آپ کے کام شروع ہو گئے ہیں۔تم کس طرح اور کیا کرتے ہو؟ ہمیں تو سمجھ نہیں آ رہی۔غیر کیا جانے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل کب کس پر اور کیوں نازل ہوگا۔یہ امر انسان کے دماغ میں بھی نہیں آتا۔یہ تو اس کو پتہ لگتا ہے جس پر فضل نازل ہو رہا ہوتا ہے۔ٹیچی من کا ہیلتھ سنٹر : ٹیچی من میں ایک بہت بڑا عیسائی پیرا ماؤنٹ چیف ہے۔یہ اپنے علاقے کا صدر بھی ہے اور کنگ کہلاتا ہے اور غانا کے پیرا ماؤنٹ چیفس کی جو مجلس ہے۔جسے انہوں نے ابھی تک روایتاً رکھا ہوا ہے اس مجلس کا یہ نائب صدر ہے یعنی چیفس کے لحاظ سے سارے غانا میں یہ دوسرے نمبر پر ہے۔غرض یہ اتنا بڑا چیف اور پھر عیسائی ہے۔بایں ہمہ اس نے ہمیں اڑھائی سوا یکٹر زمین مفت دی ہے اور جب میں وہاں گیا تھا تو اس نے جو ایڈریس پڑھا وہ اس طرح لگتا تھا کہ گو یا کسی احمدی کا لکھا ہوا ہے۔ٹیچی من میں کیونکہ عیسائی پہلے سے پہنچے ہوئے ہیں۔یہاں عیسائیوں نے دو بڑے ہسپتال بنا رکھے ہیں۔ایک کیتھولک ہسپتال ہے اور دوسرا کسی اور عیسائی فرقے کا ہے۔اس وقت میرے ذہن میں نہیں کہ وہ کس فرقہ کا ہے۔بہر حال ان دونوں ہسپتالوں میں یورپین ڈاکٹر ہیں۔چنانچہ جس وقت میں نے اپنی جماعتوں کے دوستوں سے کہا کہ ٹیچی من میں ہیلتھ سنٹر کھولو تو وہ مجھے اصل وجہ تو بتا ئیں نہ۔اور کہیں یہاں مناسب نہیں ہے۔پھر مجھے یہاں خط لکھنے شروع کئے کہ یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔اس سے تو فلاں جگہ اچھی ہے اگر آپ جازت دیں تو وہاں کھول دیں۔میرے دماغ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس جگہ ہیلتھ سنٹر ضر و ر کھلنا چاہئے کیونکہ ٹیچی من ایک مرکزی نقطہ بنتا ہے۔اس لحاظ سے کہ اس کے جنوب مشرق اور مغرب میں عیسائی اور بت پرست (پیگن ) زیادہ ہیں اور مسلمان نسبتاً کم اور شمال میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ ایک مرکزی نقطہ ہے۔عیسائیوں نے وہاں اپنا سارا زور لگایا ہوا تھا کیونکہ وہ بت پرستوں کو عیسائی بنا رہے تھے اور مسلمانوں کے بچوں میں اپنا دجل پھیلا رہے تھے۔ہماری جماعت کے دوستوں کا یہ خیال تھا کہ دومشن ہسپتال ہیں۔جن کی اچھی عمارتیں ہیں جن میں یورپین ڈاکٹر بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ زور لگائیں گے اور حکومت ہمارے ہسپتال کو روک دے گی۔جس سے ہماری سبکی ہو گی۔مگر میرا دل کہتا تھا کہ میں نے یہیں ہسپتال بنانا ہے۔چنانچہ وہ مجھے