سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 205
سبیل الرشاد جلد دوم 205 ان سے کہو کہ اپنے ہسپتالوں میں ہمارے ڈاکٹروں کو ہاؤس جاب کروا دو۔خیال یہ تھا کہ ممکن ہے ان کو ڈاکٹروں کی ضرورت ہو۔ادھر ہمارے مشنری انچارج نے لکھا کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہم کر سکتے ہیں۔غرض وہ اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتے تھے میرے ساتھی کچھ گھبرائے۔میں نے کہا گھبرانے کی بات نہیں یہ تو اللہ تعالی نے بڑا فضل کیا ہے ہم نے وہاں سر دست چار ہیلتھ سنٹر کھولنے تھے مگر اب ہم ان کولکھ رہے ہیں کہ ہم دس ڈاکٹر بھیجتے ہیں جنہیں تم ہاؤس جاب کرواؤ اور ایک سال کے بعد ان کو فارغ کر دینا۔اگر وہ دس بارہ کی اجازت دے دیں تو وہاں سولہ ہیلتھ سنٹر ز کھل جائیں گے۔اس وقت سوال تھا۔پیسے کا وہ اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے۔جماعت نے پہلے سے زیادہ قربانی کی اور اس طرح غلبہ اسلام کی اس مہم کی حرکت میں بڑی شدت پیدا ہورہی ہے اور اس سے ہم امید رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈ ا عنقریب ساری دنیا کے دل میں گاڑ دیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ہیلتھ سنٹرز کا قیام اور اس کا اثر : اس وقت تک جو ڈاکٹر وہاں پہنچ چکے ہیں۔ان کی تعداد 14 ہو چکی ہے۔جو تیار ہیں اور روانہ ہونے والے ہیں۔ان کی تعداد 4 ہے۔یعنی سولہ کا وعدہ کر کے آیا تھا۔پانچ سال کے لئے اور سولہ کی بجائے اٹھارہ ڈاکٹر ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصہ میں پہنچ جائیں گے۔ایک اس کا اور اثر ہوا۔وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیفس پہلے یہ سمجھتے تھے کہ امام جماعت احمد یہ آئے ہیں۔ان کے دل میں پیار تو بڑا ہے۔لیکن انہوں نے ایسا وعدہ کیا ہے کہ جسے یہ اتنی جلدی پورا نہیں کرسکیں گے۔ان کے دل میں چونکہ یہ خیال تھا اس لئے وہ آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔جب ہمارے ڈاکٹر پہنچنے لگے تو انہوں نے کہا ہمیں اور ڈاکٹر دیں۔ہم زمین دیتے ہیں ہم اور ہیلپ (Help) کرتے ہیں۔ہم حکومت سے اجازت لے کر دیتے ہیں۔ہمیں اور ڈاکٹر دیں۔پس اس وقت تک انیس اور ڈاکٹروں کا مطالبہ آ چکا ہے، ان اٹھارہ کے علاوہ جن میں سے اکثر پہنچ چکے ہیں اور کچھ پہنچنے والے ہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی فضل سے ہمارا کام بڑی جلدی کر دیا اور اس میں برکت ڈال دی۔ایک امریکن غانا میں ریسرچ سکالر کے طور پر کام کر رہا ہے۔اس نے ایک افریقن عورت سے شادی کی ہوئی ہے۔وہ مجھے پیچی من (غانا) میں ملا تھا۔یہ پیچی من وہ جگہ ہے جہاں حال ہی میں ہمارا ایک ہیلتھ سنٹر کھلا ہے۔چند روز ہوئے اس کے متعلق الفضل میں چھپا ہے۔میرے دورے کے وقت یہ امریکن وہاں نیچی من میں بھی آیا ہوا تھا۔اب وہ سیاحت پر ہے۔مجھے یہاں بھی ملا۔یہاں میرے سامنے تو بات نہیں کی لیکن ہمارے دوستوں سے کہنے لگا کہ انہوں نے مغربی افریقہ کے ممالک میں جو پروگرام بتایا