سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 207

207 سبیل الرشاد جلد دوم بار بار خط لکھ رہے تھے کہ یہ جگہ مناسب نہیں ہے فلاں جگہ مناسب ہے۔وہاں ہسپتال ہونا چاہئے۔میں نے کہا کہ جب میں نے فیصلہ کر دیا ہے تو وہیں بنے گا۔چنانچہ میں نے یہاں سے ڈاکٹر بشیر احمد صاحب کو بھیج دیا۔وہ سرحد کے رہنے والے ہیں اور بڑے ہی مخلص ہیں۔انہوں نے بڑا اچھا کام کیا ہے۔چنانچہ اس علاقے کا جو عیسائی ہیلتھ آفیسر تھا اس نے ہمارے حق میں رپورٹ دے دی اور رپورٹ دے کر وہ خود چھٹی پر چلا گیا۔اس کی جگہ عارضی طور پر جو دوسرا آدمی آیا ہے وہ بڑا متعصب تھا اس نے عیسائی پادریوں اور ڈاکٹروں سے مل کر مرکزی حکومت پر زور دینا شروع کیا کہ ان کو ہسپتال کھولنے کی اجازت نہ دو۔چنانچہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔پھرانہوں نے مجھے لکھنا شروع کیا کہ یہاں یہ قصہ ہے۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔تم گھبراتے کیوں ہو؟ چار پانچ مہینے تک یہی حالت رہی مگر انہوں نے اس عرصہ میں ہمارے ڈاکٹر کا ریزیڈنشل پر مٹ منسوخ نہیں کیا کیونکہ پہلا ہیلتھ آفیسر یہ رپورٹ کر چکا تھا کہ عمارت بھی مناسب ہے اور ڈاکٹر بھی اہل ہے۔چنانچہ حکومت نے کہہ دیا کہ جب تک ہم اجازت نہیں دیتے اس وقت تک یہ ڈاکٹر پریکٹس کرے۔ہم کچھ نہیں کہیں گے چنانچہ اس نے پریکٹس شروع کر دی۔پریکٹس کے دوران ایک دن کیتھولک کے علاوہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا جو ہسپتال تھا اس کا یورپین ڈاکٹر اچانک مر گیا اور ان کے پاس کوئی ڈاکٹر نہ رہا اور یہ جو کیتھولک ڈاکٹر تھا یہ ایک دن بیمار پڑ گیا اور اسی دن ایک بڑی خطرناک مریضہ کا کیس آ گیا۔اس پر انہیں مجبور آرات کو ہمارے ڈاکٹر بشیر احمد صاحب کے پاس درخواست کرنی پڑی کہ اس طرح ایک مریضہ آئی ہوئی ہے تم ہمارے ہسپتال میں آ کر اس کا اپریشن کر دو۔انہوں نے اپریشن کیا اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوا اور مریضہ اچھی ہوگئی۔احمدی ڈاکٹروں کی قربانی : ہمارے احمدی ڈاکٹروں نے بڑی اچھی مثال پیش کی ہے۔دنیا میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ مثلاً ایک ڈاکٹر جو لندن میں قریباً چار سو پونڈ ماہانہ کمارہا تھا وہ ساٹھ پونڈ ماہانہ پر وقف کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔میں نے اسے خود روکا ہوا ہے۔کیونکہ وہ ڈنیٹسٹ ہے اور مجھے ابھی ان کی ضرورت نہیں تھی۔ایک اور ڈنیٹسٹ ڈاکٹر مجھے مل گئے تھے۔ان کو میں نے گیمبیا بھجوا دیا ہے اور اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔پاکستان میں نوری صاحب ہمارا ایک نوجوان ڈاکٹر ہے۔پچھلے سال وہ یونیورسٹی میں اپنے لا ہو را پر یا میں فرسٹ آیا ہے۔اس نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔وہ بغیر ہاؤس جاب کئے جانے کے