سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 204

سبیل الرشاد جلد دوم 204 بے لوث خدمت کا جذبہ : جتنے سکولوں کا میں نے وعدہ کیا تھا نیز یہ جو ہیلتھ سنٹر ز ہیں ان کا یعنی سکولوں اور ہسپتالوں کا پانچ سالہ بجٹ ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے ہے اور اس کا چندہ بصورت وعدے نصرت جہاں ریزروفنڈ 48 لاکھ کے قریب پہنچا ہے اور خرچ ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کا ہے۔باقی قریباً نوے لاکھ روپے کہاں سے آئیں گے؟ مگر مجھے فکر نہیں تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ اب یہی ہیلتھ سنٹرز روپیہ کما رہے ہیں اور ان کے ذریعہ جو کمایا جاتا ہے وہ وہیں ان لوگوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے کیونکہ ہم ایکس پلائیٹیشن (Exploitation) کے لئے وہاں نہیں گئے۔ہم وہاں خدمت کے لئے گئے ہیں۔ہم اسلام کی محبت پیدا کرنے کے لئے گئے اور اسلام کی محبت پیدا ہی نہیں ہو سکتی اگر آپ ایک دھیلہ بھی وہاں سے نکالیں۔پھر تو وہ کہیں گے تم تو ہمارے پیسے کے لالچ میں یہاں آئے تھے۔ہم ان سے کہتے ہیں ہم پیسے کے لالچ میں نہیں آئے۔ہم خدمت کے جذبہ سے آئے ہیں۔نائیجریا میں ہیلتھ سنٹرز : نائیجریا میں ڈاکٹروں کا ایک کرائسز (Crisis) پیدا ہوا اور ہماری پر یشانی کا باعث بنا۔ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ یعقو بو گوون بڑے پیار سے ملے تھے۔میں نے ان سے بھی اپنی سکیم کے متعلق باتیں کی تھیں اور وہ بڑے خوش تھے۔اب وہ ہمیں ڈاکٹروں کے لئے ریزیڈنشل پر مٹ نہیں دے رہے تھے۔میں بڑا پریشان تھا کہ بات کیا ہے؟ شاید بیچ میں کوئی ایسا متعصب آدمی آ گیا ہے جو رعب ڈال رہا ہے۔فکر تھا کہ کیا بات ہے؟ بعد میں یہ پتہ لگا کہ وہاں افریقین ڈاکٹر جو گورنمنٹ کے نوکر تھے انہیں یکدم یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ہم استعفیٰ دے کر اپنی پریکٹس کریں تو زیادہ کما سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے استعفے دینے شروع کر دیئے جس سے حکومت نائیجریا کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ بہت سارے ہسپتال بند کرنے پڑیں گے۔غرض انہوں نے ہمارے ڈاکٹروں کو روک دیا اور کہا کہ ہم اجازت نہیں دیتے اور وجہ یہ بتائی کہ جس نے ہاؤس جاب نہیں کیا۔اس کو ہم اجازت نہیں دیں گے۔اب ہاؤس جاب تو سارے ڈاکٹر نہیں کرتے۔بعض ڈاکٹروں کی پندرہ پندرہ سال کی پریکٹس ہے اور یہ پندرہ سال کی پریکٹس ہاؤس جاب سے بہر حال زیادہ کوالیفکیشن ہے۔ہاؤس جاب تو صرف ایک سال کا ہوتا ہے مگر پھر بھی انہوں نے کہا کہ نہیں ہم نے اجازت نہیں دینی۔اتفاق کی بات ہے اور یہ بھی خدا کی شان ہے کہ مجھے خیال آیا کہ میں اپنے مشن کو لکھ دوں کہ