سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 200
200 سبیل الرشاد جلد دوم قانون تدریج کو مد نظر رکھ۔مثلاً بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ شروع میں ایک خاص عمر تک ایسا ہوتا ہے کہ غیر اس کے لئے محنت کر رہے ہوتے ہیں اور پھر ایک ایسی عمر میں سے گزرتا ہے جس میں وہ اور دوسرے مل کر محنت کر رہے ہوتے ہیں۔اگر استاد اچھا محنت کرنے والا نہیں ہے۔تب بھی اس کی نشو ونما نہیں ہوگی۔اگر بچے کو پڑھائی کی طرف توجہ نہیں ہے تب بھی نشو و نما نہیں ہوگی۔پس انسان پر ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ جب صحیح اور کامل نشو ونما کے راستے پر آگے بڑھنے کی حرکت کے لئے اپنی محنت اور دوسرے کی محنت ملنی ضروری ہے۔ورنہ نشو ونما نہیں ہوگی۔اس کے بعد جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے تو پھر وہ ایک ایسی جگہ پہنچتا ہے کہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ وہ دوسرے کے لئے بھی محنت کر رہا ہوتا ہے اور اسلامی معاشرے میں تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کی مدد کرے۔پس محنت ! محنت !! محنت !!! یعنی پوری جدو جہد ضروری ہے۔محنت کا صحیح نتیجہ نکلنے کے متعلق قرآن کریم کی رہنمائی: لیکن انسان کا دماغ یہ سوچ کر چکرا جاتا ہے۔وہ کہتا ہے میں کمزور ہوں۔اگر میں پوری محنت کروں تب بھی وہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔جو نکلنا چاہئے یا جو نتیجہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نکلے۔صحیح نتیجہ نکالنے کے لئے قرآن کریم نے بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔ایک یہ ہے کہ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى۔کہ جو آدمی قربانی دے اور قربانی دینے کے بعد اس کا سر بلند نہ ہوغرور اور تکبر میں بلکہ وہ اپنی بساط کو سمجھتا ہو اور اس کی گردن خدا تعالیٰ کے حضور جھکی رہے اور سوائے خدا تعالیٰ کے اپنے لئے کوئی سہارا نہ پائے اور نہ محسوس کرے اور نہ کسی اور کی طرف توجہ کرے۔فرما یا اغطی اس نے قربانی دی اور پھر وَاتَّقی اس نے غرور نہیں کیا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ چمٹا رہا اور اسی کو اپنا سہارا سمجھا اور اس کے بغیر کوئی چیز ممکن الحصول ہی نہ سمجھی۔وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی اور جہاں بھی اس نے کوئی اچھی چیز پائی وہ لے لی " كَلِمَةُ الْحَقِّ ضَالَّهُ الْمُؤْمِنِ“ اسی آیت کی تشریح و تفسیر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔پھر فرمایا فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْری۔اگر تم محنت کرو گے تو وہ جو محنت کی ذمہ داری ہے اس میں تمہارے لئے آسانی اور سہولت کے سامان پیدا کر دئیے جائیں گے اور تم کامیاب ہو جاؤ گے پھر تمہیں اللہ تعالی کی مدد ملے گی۔سورۃ اللیل آیت ۶ تا ۸