سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 199

199 سبیل الرشاد جلد دوم ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً انسانی ذہن ہے۔جس طرح جسموں کی شکلیں آپس میں نہیں ملتیں اسی طرح ذہن بھی آپس میں نہیں ملتے۔ہر ایک ذہن کی اپنی خاصیت ہے اور اسی پر بنیا د رکھ دی۔انسانی معاشرہ کی (ایک مستقل مضمون ہے۔اس وقت میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا) بہر حال ذہنی قومی اور استعدادیں ہیں۔پھر اخلاقی قومی اور استعدادیں ہیں اور پھر روحانی قومی اور استعدادیں ہیں۔66۔۔۔قومی میں تدریجی نشو و نما : اللہ تعالیٰ نے قانون یہ بنایا کہ تدریجا ترقی ہوگی۔ہر قوت تدریجا نشو ونما کرے گی۔مثلاً پیج ہے۔یہ بھی ایک قوت ہے مگر یہ تدریجاً نشو و نما کرتا ہے۔ایک بچہ کے قولی بھی تدریجی ترقی کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ آج بچہ پیدا اور کل کو یونیورسٹی میں پروفیسر لگ جائے۔یہ تدریجی نشو و نما محنت کو چاہتی ہے اور لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ “ میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انسان کو ہم نے رہین محنت بنایا ہے۔( ہر خلق کے اندر ہر جگہ ہمیں یہی نظر آتا ہے ) کہ انسان کی جو بھی قوت ہے، جب تک محنت نہ کی جائے۔اس کی نشو ونما نہیں ہو سکتی۔دراصل نشو و نما نام ہی ہے صحیح راہ پر محنت کرنے کا۔تا کہ ہر قوت کے اندر ترقی پیدا ہو۔زور اور طاقت پیدا ہو۔روشنی اور حسن پیدا ہو۔مثلاً بچہ پیدا ہوتا ہے۔اس وقت بچہ تو محنت نہیں کر رہا ہوتا لیکن اس کے ماں باپ محنت کر رہے ہوتے ہیں۔اگر امیر خاندان ہے تو اس کے نوکر اس بچے کے لئے محنت کر رہے ہوتے ہیں۔وہ راتوں کو جاگتے اور ان کے بچوں کا کام کرتے ہیں۔خود ہم نے اپنے بچوں کو صاف کیا ہے۔بچے بیمار ہو گئے ہیں۔دس پندرہ منٹ کے بعد دست آ رہے ہیں اور یہ چیزیں انسانی زندگی کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ماں باپ کو ہر قسم کی محنت کرنی پڑتی ہے۔اس محنت کے بغیر بچہ اپنی عمر کے لحاظ سے نشو و نما کرنا تو کجا زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔اس کی بقاء ہی ممکن نہیں۔صحیح نشو و نما کے لئے سخت محنت کی ضرورت : پس اگر چه نشو و نما کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن بقاء یعنی سالمیت کے بغیر تو نشو و نما نہیں ہو سکتی۔نشو و نما کا پہلا مطالبہ ہی یہ ہے کہ زندہ رکھا جائے۔دوسرا مطالبہ نشو ونما کا یہ ہے کہ صحت کے ساتھ زندہ رکھا جائے اور تیسرا مطالبہ نشو و نما کا یہ ہے کہ صحیح طریقے پر مدد دی جائے۔یا اپنی مدد کی جائے۔یہ دونوں طرح سے ہے۔جو آدمی بڑا ہو جاتا ہے۔وہ خود اپنی مدد کر رہا ہوتا ہے۔"وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حق“ اسی لئے کہا گیا ہے۔یعنی تیرے نفس کا بھی تیرے پر حق ہے۔فرمایا۔خدا تعالیٰ نے تجھے جو قو تیں اور استعدادیں دی ہیں ان کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے تو انتہائی جد و جہد اور محنت کر اور اس میں