سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 201 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 201

201 سبیل الرشاد جلد دوم پس محنت ضروری ہے اور محنت کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے حصول کے لئے اپنی طرف سے انتہائی قربانی اور پھر انتہائی قربانی کے بعد انتہائی انکساری ضروری ہے۔کیونکہ اتقی ہی کا نتیجہ صَدَّقَ بالحُسنی ہے اس لئے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی دوسرا شخص میرے دماغ سے اچھا دماغ نہیں رکھتا یا اس کے منہ سے کوئی اچھی بات نہیں نکل سکتی۔جہاں بھی آدمی نیکی کی بات دیکھے اس کا نفس اس کے لینے میں حائل نہ ہو۔بلکہ وہ اسے لے لے تب اللہ تعالیٰ محنت کا پھل پورا دیتا ہے اور یُسر کے سامان پیدا کر دیتا ہے مگر یہ سب کچھ محنت۔محنت اور محنت پر منحصر ہے۔خلیفہ وقت اور جماعتی قربانیاں : خلیفہ وقت کا کام ہے وہ جماعت سے محنت کرواتا ہے۔دوست ایک قربانی دیتے ہیں تو وہ ان سے ایک بڑی قربانی کا مطالبہ کر دیتا ہے۔چنانچہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ پچھلے چند سالوں میں اتنا Momentum ( مومینٹم ) یعنی غلبہ اسلام کی شاہراہ پر ہماری جو حرکت ہے اس میں اتنی شدت پیدا ہوگئی ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔میں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کو بھی کہا تھا کہ میں نے سوچا اور مجھے تمہارے متعلق فکر پیدا ہوئی کیونکہ آج سے قریباً چھ سال پہلے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کی گئی تھی اور جماعت نے اس پیار کے نتیجہ عمر میں جو انہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے تھا۔وہ پیار جو انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مہدی مسعود ( جو دراصل ایک ہی وجود ہے ) کے ساتھ ہے اور وہ پیار جو انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اس کے نتیجہ میں انہوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک کمزور اور غریب جماعت نے دوسری مالی ذمہ داریوں کے علاوہ قریباً ۳۳ لاکھ روپیہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے سپر د کر دیا لیکن اس کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن کی حرکت جماعتی حرکت سے بہت پیچھے رہ گئی۔تاہم فضل عمر فاؤنڈیشن نے مالی لحاظ سے ایک نمایاں کام یہ کیا ہے کہ لائبریری کی عمارت بنوا دی ہے۔لیکن ان چار سالوں میں اس عمارت پر جو رقم خرچ کی گئی ہے۔اس کے مقابلہ میں صدر انجمن احمدیہ نے (میں تحریک جدید اور دوسرے اداروں کو نہیں لیتا ) اس سے چار پانچ گنا زیادہ پیسہ خرچ کر کے عمارتی لحاظ سے جماعتی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔غرض فاؤنڈیشن نے اس (لائبریری کی عمارت) کے علاوہ کوئی اور نمایاں کام نہیں کیا۔میں نے اس کے متعلق کرنل عطاء اللہ صاحب سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ مجھے خود یہ خیال آیا اور مجھے فکر پیدا ہوا ہے۔ہم سوچ رہے ہیں آپ ہماری رہنمائی کریں۔میں نے کہا میری پہلی رہنمائی یہ ہے کہ آپ سر جوڑیں اور دعائیں کریں اور سوچیں پھر میرے پاس آئیں جو خدا تعالیٰ میرے ذہن میں ڈالے گا وہ میں بتا دوں گا۔