سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 181

181 سبیل الرشاد جلد دوم سے کوئی پیار، نہ ہماری دولت سے کچھ لگاؤ اور ہماری خاطر انہوں نے قربانیاں دیں اور کتنی قیمتی یہ چیز ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ عمل تو لینے کے قابل ہے۔اگر چہ جان دینے سے ملے اور حقیقت یہی ہے کہ اس بات کی قدر ان کے دل میں ہے کہ وہ قیمتی ہیرا جنس کے مقابلہ میں انسان کی جان کی بھی کوئی قیمت نہیں احمدیوں کے ذریعہ ہمیں مل گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خالی یہ کہ دینا کہ ہم محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے کافی نہیں ہے جب تک ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا نہیں ہو جاتے ہم نجات نہیں پاسکتے۔آپ کے اسوۂ حسنہ پر عمل نہ کرنا اور زبان سے ایسا کرنے کا دعوے کر دینا، اگر کوئی احمدی ایسا کرتا ہے تو اس کے یہ کسی کام نہیں آئے گا۔اسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا ضروری ہے اور یہی ایمان ہے۔اتنا حسن کہیں اور کسی اور جگہ آپ کو نظر نہیں آئے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا احسان کیا کہ چودہ سو سال گزر گئے اور پتہ نہیں کتنی اور صدیاں آئیں گی۔ہر صدی پر احسان کیا آپ کی قوت قدسیہ نے آپ کے افاضہ روحانیہ نے۔مجد دنا یجیر یا عثمان بن فودی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صدی سے پہلی صدی میں نائیجیریا میں ایک مجدد پیدا ہوئے۔عثمان بن فودی ان کا نام ہے۔وہ بھی ایک عاشق تھے خدا اور اس کے رسول کے۔عثمان بن فودی نائیجیریا میں کیوں پیدا ہوئے ، اس لئے کہ آپ کا پیار اور ہمدردی بنی نوع انسان کے کسی خاص قطعہ یا زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدردی نے تمام بنی نوع انسان کو اور تمام زمانوں کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے۔جہاں جہاں ضرورت پڑی آپ کے افاضہ روحانی نے بنی نوع انسان کی ہمدردی کے جوش میں وہاں وہاں اپنے روحانی فرزند پیدا کئے جنہوں نے ان لوگوں کی اصلاح کی اور ان کے لئے دین و دنیا کے اخلاص کے دروازے کھولے۔چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کا احسان جماعت احمدیہ کے ذریعہ ان کے پاس پہنچا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ترین روحانی فرزند ہیں پیار کیا اور آپ کے سلسلہ کے ساتھ اور آپ کے خلفاء کے ساتھ پیار کیا۔سیرالیون کے ایک سابق نائب وزیر اعظم ہیں۔اب تو حکومت بدل گئی وہ Opposition میں آگئے ہیں۔یہ تو سیاست میں ہوتا ہی ہے۔لیکن اس سے قبل جو حکومت تھی اس میں وہ نائب وزیر اعظم تھے۔اب وہ مسلم کانگرس کے پریذیڈنٹ ہیں۔وہ بہت پیچھے پڑے کہ ہم نے ضرور Reception دینی ہے۔میں نے اپنے مبلغوں کو کہا تھا کہ ملاقاتیں کرنی ہیں ، دعائیں کرنی ہیں۔حالات دیکھنے ہیں۔سکیمیں بنانی ہیں۔مشورے کرنے ہیں۔لہذا ایک ملک میں ایک