سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 180

180 سبیل الرشاد جلد دوم آتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے ہی فائدہ اٹھا سکیں اور روشنی حاصل کریں اور نہ مرکز کی اور خلافت کی برکات سے حصہ اتنا لے سکتے تھے۔وہ اتنی دور بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکے۔وہ ہمارے تک نہیں آ سکے۔مگر اللہ تعالیٰ نے آسمان پر فرشتوں کی فوجوں کو کہا کہ تم ان کے پاس جاؤ اور ان کے دلوں میں تبدیلی پیدا کر و۔جب میں گیا ہوں ،میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے۔وہ عجیب میرا مشاہدہ اور تجربہ اور احساس تھا۔میرے سامنے بارہ ہزار آدمی بیٹھا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خوشی ان کے جسموں سے اور ان کی رُوح سے پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی ہے۔ان کی کیفیت کا یہ عالم تھا کہ بو ( سیرالیون ) میں جب ہم پہنچے وہ فری ٹاؤن Capital سے ایک سوستر میل دور ہے۔وہاں ہمارا سکول بھی ہے۔اور ہمارا مشن بھی ہے اس کے گرد ہماری جماعتیں بھی بہت ہیں۔انہوں نے اس لاج ( رہائش گاہ میں جہاں ہم نے ٹھہر نا تھا جھنڈیاں بھی لگائی ہوئی تھیں اور روشنی کے اتنے قمقمے تھے کہ ہمارے ساتھیوں کو اور مجھے بھی احساس ہوا کہ کچھ ضرورت سے زیادہ خرچ کر گئے ہیں۔اسراف کا پہلو شائد زیادہ ہو گیا ہے۔ہم میں سے کسی نے ایک ذمہ وار آدمی سے پوچھا کہ آپ نے یہاں بہت زیادہ قمقمے کیوں لگا دیئے ہیں۔اس کی کیا ضرورت تھی۔اس رنگ میں انہوں نے بات کی۔آگے جو اس نے جواب دیا وہ بڑا پیارا تھا وہ کہنے لگے کہ ہمارے دلوں میں چراغاں ہو رہا ہے ہم اپنے درودیوار کو اس سے کس طرح محروم رکھ سکتے ہیں۔یہ چیز ان کے دلوں میں کس نے پیدا کی۔ہم تو وہاں جانہیں سکے۔ہم بڑی دیر کے بعد پہنچے بڑے تھوڑے پہنچے وہ یہاں آ نہیں سکتے تھے۔سوائے اس کے کہ جو ہم میں شامل نہیں۔ہر ایک یہ تسلیم کرے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے کام کیا ہے اور پھر وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور فدائی ہیں میں نے یہ بھی وہاں غور کیا کہ احمد بیت کی محبت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا عشق اور خلافت کے ساتھ ان کی وابستگی در اصل اس لئے ہے کہ اگر چہ حمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے نہ حُسن سے وہ واقف تھے نہ احسان سے اور نہ اللہ تعالے کی عظمت و جلال سے لیکن جب وہاں احمدیت گئی تو احمدیت نے ان کی زندگیوں میں پہلی دفعہ رب کریم کا ان سے تعارف کروایا۔اس پاک ذات کا جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام قدرتوں کا سرچشمہ ہے اُن لوگوں سے تعارف کروایا جو تو ہم پرستی اور جادو ٹونے پر یقین رکھتے تھے۔عیسائیت یہ چیز ان کے دلوں سے نہیں نکال سکی لیکن احمدیت نے جا کر یہ چیز ان کے دلوں سے نکال دی۔احمدیت نے اللہ تعالیٰ کو جیسا کہ قرآن کریم نے اسے پیش کیا ہے ان کے سامنے پیش کیا۔اللہ کی معرفت انہوں نے حاصل کیا اور اس احسان کے نیچے وہ دب گئے کہ چھوٹی سی جماعت تھی چند آدمی یہاں آئے ، تکلیفیں برداشت کر کے آئے ، نہ ان کو سیاست