سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 179 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 179

179 سبیل الرشاد جلد دوم سے قوتِ احسان نہیں چھینی۔بڑا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔آپ کو بڑی حمد کرنی چاہئیے۔قریباً اسی سال سے مخالفین جو منہ میں آتا ہے ہمارے خلاف کہہ جاتے ہیں۔اور وہی لوگ جن کے منہ میں جو آتا ہے ہمارے خلاف کہہ جاتے ہیں ، جب ان کو ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہمارے پاس آ جاتے ہیں اور ہم مسکراتے چہروں سے ان کی مدد کرتے ہیں۔ظفر علی خاں مرحوم اخبار زمیندار کے جو ایڈیٹر تھے وہ شروع سے ہی ہمارے مخالف تھے۔ٹھیک ہے۔یہ دل کا معاملہ ہے، اگر نہیں سمجھ میں آیا تمہارا حق ہے مخالفت کرو۔لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ ہم تم پر احسان کریں۔ساری عمر زمیندار اخبار میں جو کچھ دل میں آیا وہ ہمارے خلاف لکھتے رہے۔جب وہ بوڑھے ہوئے تو ، ( اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک سبق دینا تھا ) وہ بیمار ہو گئے۔جب وہ بیمار ہوئے تو ان کے بچوں نے ان کا خیال رکھنا چھوڑ دیا۔اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مری میں تھے۔مری میں ہی ظفر علی خاں تھے۔آپ کو جب پتہ لگا تو آپ نے اپنے ڈاکٹر کو کہا کہ روزانہ جا کر ان کو دیکھا کرو۔جس دوائی کی ضرورت ہو خواہ وہ کتنی مہنگی ہو ان سے قیمت نہیں لینی۔مجھ سے پیسے لے کر جایا کرو اور دوائی خرید ا کرو اور وہ دوائی استعمال کراؤ۔اور ایسی تو سینکڑوں ہزاروں مثالیں ہیں۔خلافت نے بھی یہی کیا اور ہمارے بزرگ احمدیوں نے بھی یہی کیا۔جب مخالف اور ضر ر اور ایذا پہنچانے والا انسان ضرورت کے وقت ان کے پاس آیا۔اور وہ جائز طریقہ سے اس کی ضرورت پوری کر سکتے تھے یا کروا سکتے تھے تو انہوں نے کی۔تو اسی سالہ مخالفت نے اور شور نے اور گالیوں نے ہم سے قوتِ احسان نہیں چھپنی۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالے کا بڑا فضل ہے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہو اور تم مقابلہ میں گالی دیتے ہو تو تم نے اپنا بدلہ لے لیا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔لیکن اگر تم گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے تم پر درود بھیجتے ہیں۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ حکم دیا کہ گالیاں سن کر دعا دو تو بڑا احسان کیا ہم پر۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تمہیں گالیاں دی جائیں تو یہ کوشش کرو کہ تم بدلہ نہ لو بلکہ اللہ تعالے کے فرشتوں کا درود تمہیں حاصل ہو اور ان کی دعائیں تمہیں حاصل ہوں۔تو کتنی دعائیں ہمیں دلا دیں۔سیاری عمر فرشتوں کی دعا ئیں ہمارے ساتھ ہیں۔کیونکہ گالی سن کر ہم گالی نہیں دیتے۔ہمیں اتنی طاقت نہیں تھی کہ ہم وہ نتیجہ نکال سکتے۔جو ہماری اشاعت اسلام کی کوشش کا اس وقت نکل رہا ہے۔افریقن نومسلموں کا اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق سات ہزار میل دور ہے ایک علاقہ۔میں مغربی افریقہ کی بات کر رہا ہوں۔وہ کبھی یہاں نہیں آ الا ماشاء الله شاید کبھی کوئی آیا ہوا اور وہ بھی اب۔اتنا بڑا فاصلہ ہے ان کے اور ہمارے درمیان۔نہ مرکز کو انہوں نے دیکھا ، نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔نہ ان کو اردو