سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 148

148 سبیل الرشاد جلد دوم تمہیں دی گئی ہیں۔اے انسان تیری ان قوتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما جس طرح کہ میں چاہتا ہوں ہو نہیں سکتی جب تک کہ میں ان کی نشو ونما کے سامان تیری کسی کوشش اور عمل کے بغیر پہلے ہی سے نہ کر دوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت انسان اور حیوان وغیرہ سب جانوروں پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور قبل اس کے کہ کوئی ضرورت ان کو پیش آئے اس ضرورت کو پورا کرنے کے سامان وہاں انہیں نظر آتے ہیں۔بچہ پیدا ہوتا ہے۔پیدائش کے وقت کون ساعمل ابھی اس نے کیا ہوتا ہے۔وہ اس دنیا میں ایک گھبراہٹ بے چینی اور چینوں کے ساتھ آتا ہے اور ابھی کسی قسم کا ( نہ اچھا نہ بُرا ) عمل اس نے نہیں کیا تھا لیکن ادھر اس کی پیدائش ہوئی اور ادھر اس کی ماں کی چھاتیوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے دودھ پیدا کر دیا۔اگر بوقت پیدائش بچہ کی غذا مہیا نہ کی جاتی تو پھر کوئی بچہ اس دنیا میں زندہ نہ رہ سکتا۔نہ انسان کا بچہ، نہ گھوڑے کا بچہ، نہ شہد کی مکھی کا بچہ، نہ تیتر اور فاختہ اور دوسرے جانوروں کے بچے زندہ رہ سکتے۔پیدائش کے وقت بچہ کے لئے دودھ یا دوسری غذا کا سامان مہیا کیا گیا ہے حالانکہ عمل کی تو ابھی ابتدا نہیں ہوئی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رحمان ہوں۔میں تمہارے عمل کرنے سے بھی پہلے تمہاری بقا اور تمہارے قیام کے لئے جن سامانوں کی ضرورت تھی وہ میں نے مہیا کر دیئے اور میرا یہ جلوہ ہر جاندار دیکھ رہا ہے۔پھر فرمایا کہ میں رحیم ہوں اگر انسان کو جسے اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے یہ یقین نہ ہو کہ عام حالات میں اغلب یہ ہے کہ میری کوششوں کا دنیوی نتیجہ وہ نکلے گا جو میں چاہتا ہوں تو نری مایوسی ہوتی اور اس کی زندگی بالکل بیکار ہوتی۔وہ اس دنیا میں زندہ نہ رہ سکتا۔آخر ایک زمیندار کس امید پر اپنے گھر کے کمروں سے، اپنے کوٹھے سے دانے نکال کر کھیت میں جا کر پھینک دیتا ہے۔وہ یہ دانے اسی امید پر ہی پھینکتا ہے کہ ہمارا خدا رحیم ہے اور اس سلسلہ میں جو میری کوشش ہو گی اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت کے جلوہ سے اسے با شمر کرے گا اور میرے اعمال ضائع نہیں ہوں گے۔قرآن کریم نے متعدد جگہ بتایا ہے کہ میری طرف رجوع کرو اس طرح تمہارے اعمال محفوظ رہیں گے جو لوگ رجوع کرنے والے نہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں گرفت کرنے میں دھیما ہوں میں تمہیں موقع دیتا ہوں اور میں اپنی گرفت سے تمہیں اس لئے محفوظ نہیں رکھتا کہ تم میری نگاہ میں روحانی لحاظ سے بڑے خوبصورت اور حسین ہو بلکہ میں تمہیں مہلت اس لئے دیتا ہوں کہ شاید تمہیں کسی وقت عقل آئے اور تم دوری کو قرب سے بدلنے کی کوشش کرو۔بہر حال مہلت دینے اور گرفت جلد نہ کرنے میں ایک اور حکمت ہے۔لیکن بدلہ دینے کی جو صفت ہے یہ ایک عام صفت ہے۔رحیم کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ انسان جو نیک کام کرے اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ بہتر رنگ میں عطا کرتا ہے ویسے بالواسطہ تمام کوششیں اور ان کے نتائج اس سے تعلق رکھتے ہیں۔دنیا میں نیکیاں کی جائیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کیا