سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 147
147 سبیل الرشاد جلد دوم گے کہ ان پھلوں کو اکٹھا کرنے کے وقت حقدار لوگ وہاں جمع نہ ہوں۔ان مشوروں کے بعد وہ خوشی خوشی رات کو سوئے لیکن صبح جس وقت وہ باغ میں پہنچے تو وہاں انہوں نے یہ دیکھا کہ رات کے کسی حصہ میں رب العالمین کا تعلق اس باغ سے قائم نہیں رہا اور اب نہ وہاں کوئی پھل تھا، نہ پیتے تھے اور نہ درخت تھے۔سب چیزوں پر ایک فنا طاری ہو گئی تھی۔کبھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ دکھایا کہ کھیت ہرے بھرے ہیں اور زمیندار یہ دیکھ کر خوش ہیں کہ ہماری محنت کا پھل جلد ملنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک منٹ کے لئے اپنی ربوبیت کا تعلق ان کھیتوں سے ہٹالیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری مخلوق نے جب خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ان چیزوں کو نہ پایا تو ایک منٹ میں اس نے ایک زبردست حملہ آور کی طرح ان پر یلغار کی اور ایک منٹ کے اندر سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں کھیت ختم کر کے رکھ دیئے۔ساری کھیتیاں زمین کے ساتھ لگ گئیں اور ایک دھیلہ کا بھی فائدہ زمیندار کو نہ پہنچا۔قرآن کریم نے اسی لئے کہا تھا کہ ءَ أَنْتُمْ تَزْرَعُونَةً أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ ) کیا تم ان کھیتوں کو اُگاتے ہو یا ہم انہیں اُگاتے ہیں۔تم ان کھیتوں کو نہیں اُگاتے بلکہ میری ربوبیت کا تعلق ان کھیتوں کی پرورش کرتا اور انہیں اس قابل بناتا ہے کہ تم ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اللہ تعالیٰ نے بیسیوں سینکڑوں مثالیں قرآن کریم میں ایسی دی ہیں جن میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہر چیز کی بقا اور اس کے قیام کے لئے ایک سہارے اور ستون کا کام دے رہی ہے۔وہ ستون نکل گیا تو چھت زمین پر آ رہے گی اور وہ چیز فنا ہو جائے گی ، ہلاک ہو جائے گی ، برباد ہو جائے گی ، تباہ ہو جائے گی ، بے نتیجہ اور بے ثمر ہو جائے گی۔غرض ربوبیت کے معنی میں یہ بھی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو خلق کیا یعنی پیدا کیا۔جہاں اس نے اسے قوتیں اور استعدادیں دیں وہاں ہر وقت یہ ربوبیت ہر مخلوق کا سہارا ہے۔ربوبیت کا مینہ بغیر وقفہ کے اور تسلسل کے ساتھ مخلوق پر برستا ہے تب وہ باقی رہتی اور قائم رہتی ہے اگر اللہ تعالیٰ کے فیضان کی یہ بارش ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کے لئے بھی مخلوق سے جدا ہو جائے۔مخلوق اس فیضان کی بارش سے محروم ہو جائے تو سوائے ہلاکت اور فنا کے اور کوئی چیز نہیں۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ اے انسان تیرے لئے میرا تجھے پیدا کرنا میری عطا کردہ قوتیں اور صلاحیتیں ہی کافی نہیں بلکہ یہ قو تیں اور صلاحیتیں ( میں اب جسمانی ذہنی اخلاقی اور روحانی قوتیں کہوں گا۔یہ چار قسم کی قو تیں ہیں جو ہمیں نظر آتا ہے کہ انسان کو دی گئی ہیں ) جو 10 سورۃ الواقعہ آیت ۶۵